بینک میں کام کرتا ہوں، اور بینک کی انتظامیہ کے مسائل کا شکار ہوں، مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھے یہ نوکری کرنی چاہیئے یا نہیں؟ میں معاشی طور پر غریب شخص ہوں، مجھے استخارہ یا فتویٰ کے ذریعے بتائیں کہ کیا میں یہ ملازمت جاری رکھوں، یا چھوڑ دوں ،یا کوئی ذاتی چھوٹا کاروبار کروں؟
بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہے، جیسے منیجر اور کیشیئر وغیرہ کی ملازمت ، ایسی ملازمت بالکل حرام اور ناجائز ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے ’’لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أكل الربو وموكله وكاتبه و شاهدیه قال وهم سواء‘‘۔ (مسلم شریف ج ۲ ص ۲۷) یعنی رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے ، سودی تحریر لکھنے والے ، اور سودی شہادت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں۔ اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے ، لیکن بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہیں ، نہ اس کا تعلق سود کے لکھنے سے ہے، نہ سود پر گواہ بننے سے ہے، اور نہ سودی معاملات سے ہے ،اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے، جیسے چوکیداری کی ملازمت، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں۔
ایک رائے تو یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، یہ بھی جائز نہیں ،کیونکہ ایسے ملازمین کا سودی معاملات میں اگرچہ کوئی عمل دخل نہیں، لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے، وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں ۔
جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں ،یہ جائز ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ اگر چہ ان ر قوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں، لیکن بینک میں موجود ساری رقم سودی نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہے، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں، یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پر لی ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک مالکان کا اصل سرمایہ ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہےجو بطورِ سود کے حاصل کی گئی ہیں ،لیکن بینک میں جمع رقوم اکثر پہلی دو قسم کی ہوتی ہیں اور آخری قسم کی رقوم ان کی بنسبت کم ہوتی ہیں، اس لئے بینک میں موجود اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں، لہذا اگر اس مجموعی مخلوط رقم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے، جس کا سودی معاملات سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں تو ا س کے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں۔ البتہ بہتر یہی ہے کہ ان بینکوں کی ایسی ملازمت بھی ختیار نہ کی جائے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لئے بہتر تو یہی ہے کہ کسی دوسرے حلال ذریعۂ معاش تلاش کرنے کے بعد بینک کی اس ملازمت کو چھوڑ دے، لیکن بعض علماءِ کرام کی رائے کے مطابق چونکہ بینک کی چوکیداری کی ملازمت کی گنجائش ہے، اس لئے اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام نہیں۔