السلام علیکم !
ہما را گزارہ مشکل سے ہو رہا ہے والد صاحب ہی کماتے ہیں، میں گریجویٹ ہوں اور کئی سال سے نوکری تلاش کر رہا ہوں لیکن بیکار ہوں ، اب مجھے الفلاح بنک میں نوکری مل رہی ہے، کیا میں ان حالات میں بینک میں نوکری کر سکتا ہوں ؟ والد صاحب کافی عمر کے ہو گئے ہیں اور مجھ سے ان کا اس عمر میں اتنی محنت کرنا دیکھا نہیں جاتا ۔
واضح ہو کہ بینک الفلاح بھی دوسرے سودی بینکوں کی طرح ہی اپنے معاملات انجام دیتا ہے، اس لیے اس کی ایسی ملازمت جو براہ راست سودی لین دین سے متعلق ہو شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر سائل کی ذمہ داری ایسے امور سے وابستہ ہو جن میں سودی معاملات کی لکھت پڑھت سے کوئی مناسبت نہ ہو تو اس کی مکمل وضاحت کر کے دوبارہ حکم شرعی معلوم کیا جائے۔
كما في تكملة فتح الملهم: تحت قوله " كاتية " لان كتابة الربا اعانة عليه ومن هنا ظهر ان التوظف فى البنوك ورئيس الربوية لا يجوز، فإن كان عمل الموظف في البنك مما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذلك حرام لوجهين : الاول اعانة على المعصية والثاني أخذ الأجرة من مال الحرام اھ (۱/ ۶۱۹)