میں ایک بینک میں کام کرتا ہوں ، کسی نے کہا کہ بینک میں کام کرنے والے کی نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج ، دعائیں کچھ بھی قبول نہیں ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا بندہ سارے کام چھوڑ دےکہ اس کا کچھ قبول نہیں ہوتا ، آج کل تو ملازمت بھی نہیں ملتی ،تو کرنی پڑتی ہے، میں دوسری ملازمت ڈھونڈ رہا ہوں مجھے جوں ہی ملے گی، میں بینک کی ملازمت چھوڑ دوں گا۔
سائل اگر سودی بینک میں ایسی ملازمت انجام دیتا ہو جس کا تعلق سودی معاملات کے لکھنے پڑھنے اور ان کو محفوظ کرنے سے ہو تو یہ بلاشبہ ناجائز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ناجائز اور حرام ہے، اس لیے سائل پر لازم ہیکہ فوری طور پر دوسری کوئی ایسی ملازمت تلاش کرے جس میں اس قسم کے ناجائز امور انجام نہ دینے پڑتے ہوں اور پھر جیسے وہ ملازمت مل جائے فوراً بینک کی ملازمت ترک کردے، مگر اس دوسری ملازمت کو تلاش کرنے میں ایسی ہی محنت کرے جیسے کوئی بے روگاز کرتا ہے ۔
جبکہ اس ملازمت کے دوران انجام دیئے جانے والے اعمال اگرچہ ادا ہو کر فرض ذمہ سے اتر جاتا ہے، مگر اس کی نحوست کی بناء پر ان کی خیر و برکت سے محرومی یقینی ہے، اس لئے اس دوران میں اپنے فرائض و اعمال کو ترک کرنے کے بجائے ادا کرنے کا ہی اہتمام چاہیے اور کوشش چاہیے کہ دوسری جائز و حلال ملازمت فوراً مل جائے۔
كما في التنزيل العزيز: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورة البقرة: ۲۷۵) -
وفي مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن حنظلة غسيل الملائكة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد من ستة وثلاثين زنية". رواه أحمد والدراقطني وروى البيهقي في شعب الإيمان عن ابن عباس وزاد: وقال: "من نبت لحمه من السحت فالنار أولى به" اھ (2/ 138) والله اعلم بالصواب!