جناب عالی ہمارا ایک کزن جو انڈیا میں رہ رہا ہے ملٹی نیشنل بینک میں نوکری کرنا شروع کر رہا ہے وہ MBA پاس ہے اس کی نوکری اور کام وغیرہ نفع سے تعلق رکھتا ہے میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ اچھے طریقے سے سوچ لے، اس لیے کہ تو حرام کی کمائی کرنے جا رہا ہے وہ کسی بھی صورت اِسلام میں جائز نہیں، وہ کہتا ہے انڈیا میں کوئی ایسی کمپنی نہیں ، جو پیسے سود کے بغیر دیتی ہو تو اس صورت میں کیا میں انڈیا میں کام ہی نہ کروں؟ اس نے کہا کہ میں سود کے کھاتے سے ایک پیسہ بھی نہیں لوں گا، لیکن زندگی چلانے کے لیے مجھے کسی ادارے وغیرہ میں نوکری کرنی پڑے گی میرے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے میں ایک آئی ٹی پروفیشنل ہوں تو کیا میں بینک میں نوکری کر سکتا ہوں ؟ برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں۔ اسلام اور شریعت کے نقطہ نظر اور قرآن وحدیث کے حوالے کے ساتھ تاکہ میں خود بھی صحیح راستے پر چلوں اور اس کو بھی اس سے آگاہ کروں میں آپ کے جلد از جلد جواب کا منتظر رہونگا ۔
سائل کے مذکورہ کزن پر لازم ہے کہ وہ مروجہ سودی بینکوں میں ملازمت اختیار کرنے کی بجائے کسی دوسرے غیر سودی ادارے میں ایسی ملازمت اختیار کرے جس کے دوران اسے کسی قسم کا غیر شرعی اور سودی معاملہ انجام نہ دینا پڑے اور تھوڑی بہت کوشش سے یہ ممکن ہے نا ممکن نہیں۔
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في سنن ابن ماجه: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون حوبا، أيسرها أن ينكح الرجل أمه» اھ (2/ 764)
اگر بینک منیجر کی تنخواہ حرام ہو تو بینک میں منیجر کی ذمہ داری کون پوری کرے؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0