حضرت میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میزان بینک جو لین دین کرتی ہے وہ جائز ہے؟ کیونکہ طریقہ شرعی اصولوں کے مطابق ہے۔جواب مرحمت فرمائیں۔
ہماری معلومات کے مطابق ’’المیزان بینک‘‘ کے اکثر وبیشتر معاملات بطاہر شرعی تقاضوں کے مدِّ نظر رکھ کر انجام دیے جاتے ہیں، اس لئے ان کا لین بھی جائز طریقے سے معلوم ہوتا ہے، تاہم یہ ایک پرائیویٹ ادارہ ہے، جس کی پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اس لئے ان کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے سے قبل اس معاملہ کی مکمل تفصیل معلوم کر کے کسی مستند دارلافتاء سے اس کا حکمِ شرعی معلوم کر لیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔