کیا World Bank میں نوکری جائز ہے ؟ کیا World Bank میں انٹرنشپ جائز ہے ؟
واضح ہو کہ کسی بھی سودی بینک میں اس طرح ملازمت اختیار کرنا جس کا تعلق براہ راست سودی لین دین سے ہو شرعاً ناجائز اور اس کی تنخواہ حرام ہے ، لہذا ورلڈ بینک میں ایسی ملازمت اختیار کرناکہ جس کا تعلق براہِ راست سودی لین ،لکھت پڑھت سے ہو ، شرعاً جائز نہیں اور اس کام پر ملنے والی تنخواہ بھی حلال وطیب نہ ہوگی ، اس طرح کی نوکری اور انٹرنشپ سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی تکملہ فتح الملہم: قولہ، وکاتبہ لأن کتابۃ الربا إعانۃ علیہ، ومن ھنا ظھر أن التوظف فئ البنوک الربویۃ لایجوز، فإکان عمل الموظف فی البنک مایعین علی الربا، کالکتابۃ أو الحساب، فذالک حرام لوجھین، الاول إعانۃ علی المعصیۃ، والثانی أخذ الأجرۃ من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا، وأما إذا کان العمل لاعلاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال الخ ( ج 1 ص 619 باب لعن آکل الربا وموکلہ کتاب المساقاۃ والمزارعۃ ط دارالعلوم کراتشی )۔