کیا میں تجارتی بینک میں نوکری کر سکتا ہوں، میں فی الحال ایک پرائیویٹ کمپنی میں نوکری کرتا ہوں،مگر یہاں کے کام کی صور تحال اور انتظامات کچھ اچھے نہیں ہیں ،اور اسٹاف کے تمام افراد مصیبت اور پریشانی میں ہیں، میں جانتا ہوں کہ تجارتی بینک میں کام کرنے سے اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہے، مگر ان حالات کے باعث میں بالکل یہاں کے کام سے تھک چکا ہوں اور تنگ آگیا ہوں ،اور اب تجارتی بینک میں کام کرنے کا موقع ملا ہے،مگر پریشان ہوں کہ کیا کروں، کیا میں اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں؟
کسی تجارتی اور سودی بینک کی ایسی ملازمت اختیار کرنا جس کا تعلق براہ راست سودی لین دین سے ہو،نا جائز اور حرام ہے۔ اس لئے سائل کو اپنی موجودہ ملازمت کو ذرا سی سختی کی وجہ سے ترک کرنا اور سودی بینک کی ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ کسی دوسری جگہ جائز ملازمت اختیار کر سکتا ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: " هم سواء " . رواه مسلم (2/ 134)-
وفي تكملة فتح الملہم: قوله صلى الله علیه وسلم (وكاتبة) لأن كتابة الربا إعانة عليه ومن هنا ظهر أن التوظف فى البنوك الربوية لا يجوز فإن كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذالك حرام اھ (۱/ ۶۱۹)-
وفي حاشية ابن عابدين: قوله ( وكل أنواع الكسب الخ ) أي أنواعه المباحة بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ (6/ 462)-