السلام علیکم، ہمارے والد نے دوسری شادی کر لی ہے۔ دو سال پہلے وہ ریٹائر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی دوسری بیوی کے ساتھ جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوایا ہے۔ ہم ان کے چار بچے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ والد کو کچھ ہوتا ہے تو ہمیں علم ہو کہ ٹوٹل کیا ہے اور کہاں ہے، کیونکہ فساد اور دھوکے کا خطرہ ہے ہمیں۔ اگر ہماری والدہ حیات ہوتیں تو شاید ہم اس بارے میں فکر مند نہ ہوتے، لیکن ہمیں ان کی بیوی پر بھروسہ نہیں ہے۔ تو کیا ہم ان سے ان کے پیسے کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں، اپنے علم میں رکھنے کے لیے؟ یا ہم اور کیا کر سکتے ہیں کہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے؟ پلیز رہنمائی کریں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائزتصرف کرسکتاہے، اس مىں كسى كو مداخلت كرنے كا كوئى حق نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان کو ان كى ذاتى جائداد كا حساب دىنے پر مجبورکرے،البتہ اگر والد كے انتقال كے بعد اس كى دوسرى بىوى كى وجہ سے مال وجائداد مىں كسى قسم غبن كا اندىشہ ہو تو ادب واحترام كے ساتھ والد صاحب سے ان کے پیسوں کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں، تاكہ بعد مىں جھگڑے سے محفوظ رہے، ورنہ بعد میں ضرورت پڑنے پر قانونى چاره جوئى كى بھى گنجائش ہوگى۔
كما في مسند أحمد: عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: أتى أعرابي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إن أبي يريد أن يجتاح مالي؟ قال: " أنت ومالك لوالدك، إن أطيب ما أكلتم من كسبكم، وإن أموال أولادكم من كسبكم، فكلوه هنيئا " اهـ [مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما، رقم الحديث (6678) ج:11 ص:261 ط: الرسالة العالمية)]
وفي الأشباه والنظائر لابن نجيم: لا يجوز التصرف في مال غيره بغير إذنه ولا ولاية إلا في مسألة في السراجية: يجوز للولد والوالد الشراء من مال المريض ما يحتاج إليه بغير إذنه اهـ [ كتاب الغصب، ص:243 ط: دار الكتب العلمية بيروت)]