گاڑی میں پیسے لگائے ہیں 40 لاکھ، فریق اول اور فریق ثانی مہینے کے بعد جو بھی ہوگا نفع ہو یا نقصان دونوں برابر شریک ہیں، سال کا ایگریمنٹ ہے، نہ فریق اول مانگ سکتا ہے، نہ فریق دوئم دے سکتا ہے، اور سال بعد اماؤنٹ پورا آئے گا۔
نوٹ ! ایک شخص نے گاڑی خرید کر دوسرے آدمی کو دے دی ہے، جو بطور ڈرائیور یہ گاڑی چلائے گا اور جو منافع یا نقصان ہوگا وہ آدھا آدھا ہوگا۔
واضح ہو کہ اپنی گاڑی کسی شخص کو کسی عوض کے بدلے چلانے کے لیے دینا شرعاً اجارہ کہلاتا ہے، اور اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اجرت متعین اور معلوم ہو۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں گاڑی چلانے کے عوض چلانے والے (ڈرائیور)کونفع و نقصان میں برابر کا شریک بنانا اجرت مجہول ہونے اور گاڑی چلانے پر آدھے نقصان کی ذمہ داری ڈالنےکی وجہ سے اجارہ فاسد ہے۔لہذافریقین پر اس کو فسخ (ختم) کرنا لازم وضروری ہے۔
البتہ اس معاملے کو جائز بنانے کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ نفع و نقصان مکمل طور پر گاڑی کے مالک کا ہو اور گاڑی چلانے والے (ڈرائیور) کے لیے ماہانہ یا یومیہ متعین اجرت مقرر کر لی جائے، تو اس صورت میں یہ اجارہ شرعاً درست ہو گا۔
کما فی الدر المختار : (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد، أشباه. الخ
وفی رد المحتار : تحت : (قوله ومرمة الدار أو مغارمها) قال في البحر: وفي الخلاصة معزياً إلى الأصل: لو استأجر داراً على أن يعمرها ويعطي نوائبها تفسد؛ لأنه شرط مخالف لمقتضى العقد اهـ. فعلم بهذا أن ما يقع في زماننا من إجارة أرض الوقف بأجرة معلومة على أن المغارم وكلفة الكاشف على المستأجر أو على أن الجرف على المستأجر فاسد كما لايخفى اهـ. أقول: وهو الواقع في زماننا، ولكن تارةً يكتب في الحجة بصريح الشرط فيقول الكاتب: على أن ما ينوب المأجور من النوائب ونحوها كالدك وكري الأنهار على المستأجر، وتارةً يقول: وتوافقا على أن ما ينوب إلخ. والظاهر أن الكل مفسد؛ لأنه معروف بينهم وإن لم يذكر، والمعروف كالمشروط، تأمل. اھ (كتاب الإجارة، ج: 6، ص: 46، ط: سعيد)۔
وفی الھندیۃ : وأما شرائط الصحة فكثيرة....منها أن يكون رأس المال دراهم أو دنانير عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى وعند محمد رحمه الله تعالى أو فلوسا رائجة حتى إذا كان رأس مال المضاربة ما سوى الدراهم والدنانير والفلوس الرائجة لم تجز المضاربة إجماعا.... ولا تجوز بالذهب والفضة إذا لم تكن مضروبة في رواية الأصل. (كتاب المضاربة، الباب الاول في تفسيرها وشرائطها، وركنها، ج: 4، ص: 286، ط: ماجدیۃ)ـ
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0