محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ میں سونے کی تجارت سے متعلق سرمایہ کاری کے معاہدے کے شرعی حکم کے بارے میں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں۔ ایک فرد (فریقِ ثانی) نے ایک کمپنی (فریقِ اول: الامتوار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز) میں 2,000 عمانی ریال (OMR) کی سرمایہ کاری کی۔ کمپنی کا بیان ہے کہ یہ رقم خصوصی طور پر حقیقی سونا خریدنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جس کی روزانہ کی بنیاد پر تجارت کی جاتی ہے۔ تمام کاروباری فیصلے اور تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر فریقِ اول کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں، اور سرمایہ کار انتظامیہ میں کوئی حصہ نہیں لیتا۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ پوری اصل رقم 20 مہینوں میں ماہانہ 5% کی قسطوں میں سرمایہ کار کو واپس کر دی جاتی ہے۔ منافع کی ماہانہ متغیر (بدلتی ہوئی) ادائیگی سونے کی نقل و حرکت (Gold Movement) کی بنیاد پر کی جاتی ہے، نہ کہ اصل منافع کی بنیاد پر۔ منافع کا حساب اور انکشاف صرف فریقِ اول ہی کرتا ہے۔ فریقِ اول کا دعویٰ ہے کہ ان کا کاروباری ماڈل اس وقت بھی منافع بخش رہتا ہے جب سونے کی مارکیٹ گرتی ہے۔ معاہدے کی مدت 20 ماہ ہے، اور سرمایہ کار کسی بھی وقت باقی ماندہ سرمایہ واپس لے سکتا ہے۔ براہ کرم مشورہ دیں کہ کیا یہ انتظام شرعی طور پر جائز ہے؟ کیا یہ مضاربہ یا مشارکت کے زمرے میں آتا ہے؟ کیا اصل رقم سے زیادہ کوئی رقم وصول کرنا جائز ہے؟ کیا سرمائے کی ضمانت شرعی جواز کو متاثر کرتی ہے؟ جزاکم اللہ خیرا۔ سونے کی نقل و حرکت کی بنیاد پر کی جاتی ہے، ناکہ اصل منافع کی بنیاد پر۔ منافع کا حساب اور انکشاف صرف اول فریق ہی کرتا ہے۔
اول فریق کا دعویٰ ہے کہ ان کا کاروباری ماڈل اس وقت بھی منافع بخش رہتا ہے جب سونے کی مارکیٹ گرتی ہے۔
معاہدے کی مدت 20 ماہ ہے، اور سرمایہ کار کسی بھی وقت باقی ماندہ سرمایا واپس لے سکتا ہے۔
براہ کرم مشورہ دیں کہ
کیا یہ انتظام شرعی طور پر جائز ہے؟
کیا یہ مضاربہ یا مشارکت کے زمرے میں آتا ہے؟
کیا اصل رقم سے زیادہ کوئی رقم وصول کرنا جائز ہے؟
کیا سرمائے کی ضمانت شرعی جواز کو متاثر کرتی ہے؟
جزاکم اللہ خیرا۔
سوال میں درج مذکور کمپنی سے متعلق بعض شررائط (منافع کی تقسیم کا حقیقی منافع کی بنیاد پر نہ ہونا ،20 ماہ میں اصل رقم کی واپسی اور کسی بھی وقت سرمایہ واپس لینے کا مجاز ہونا)سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکور کمپنی کا کاروبار نہ مضاربت کے اصول کے مطابق ہے اور نہ شرکت کے ضوابط کے مطابق،بلکہ قرض لے کر اس پر اضافی رقم دی جا رہی ہے جوکہ سود کی صورت ہے،لہذا مذکور کمپنی کا طریقہ کار اگر واقعۃً ایسا ہی ہو جو سوال میں مذکور ہے،تو اس میں انویسٹمنٹ کرنا جائز نہیں ،اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع:وروى بشر عن أبي يوسف في رجل دفع إلى رجل ألف درهم؛ ليشتري بها ويبيع، فما ربح فهو بينهما فهذه مضاربة ولا ضمان على المدفوع إليه المال ما لم يخالف؛ لأنه لما ذكر الشراء والبيع فقد أتى بمعنى المضاربة، وكذلك لو شرط عليه أن الوضيعة علي وعليك، فهذه مضاربة والربح بينهما، والوضيعة على رب المال؛ لأن شرط الوضيعة على المضارب شرط فاسد فيبطل الشرط، وتبقى المضاربة.اھ(كتاب المضاربة،ج:6،ص:79، في ترتيب الشرائع - كتاب المضاربة - ط:دار الکتب العلمیۃ)
و فیہ ایضاً:فقبضه المضارب على ذلك، فهو جائز، والمال على ما سميا من المضاربة، والبضاعة والوضيعة على رب المال، ونصف الربح لرب المال ونصفه على ما شرطا؛ لأن الإشاعة لا تمنع من العمل في المال مضاربة وبضاعة، وجازت المضاربة والبضاعة، وإنما كانت الوضيعة على رب المال؛ لأنه لا ضمان على المبضع والمضارب في البضاعة والمضاربة وحصة البضاعة من الربح لرب المال خاصة؛ لأن المبضع لا يستحق الربح، وحصة المضاربة بينهما على ما شرطا؛ لأنه ربح حصل من مال المضاربة، والمضاربة قد صحت، فيكون بينهما على الشرط.اھ( فصل في شرائط ركن المضاربة،ج:6،ص:84،ط:دار الکتب العلمیۃ)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0