بچے کا عقیقہ کن کن دنوں میں کر سکتے ہیں؟
بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا مستحب اور پسندیدہ ہے، تاہم اگر کسی عذر کی وجہ سے ساتویں دن عقیقہ نہ کر سکے تو چودھویں (14) دن، اور اگر اس دن بھی ممکن نہ ہو تو اکیسویں (21) دن بھی کیا جا سکتا ہے، اگر بالفرض ان میں سے کسی بھی دن عقیقہ نہ کر سکے تو زندگی میں کسی بھی وقت عقیقہ کرنے کی گنجائش ہے، البتہ جب بھی عقیقہ کیا جائے،تو ساتویں دن کا لحاظ رکھا جائے، یعنی جس دن پیدائش ہوئی ہو، اس سے ایک دن پہلے عقیقہ کیا جائے،مثلاً اگر پیدائش جمعہ کے دن ہوئی ہو تو جمعرات کے دن عقیقہ کیا جائے، باقی دنوں کا بھی اسی طرح حکم ہوگا۔
کما فی اعلاء السنن ’’ أنها إن لم تذبح في السابع ذبحت في الرابع عشر، وإلا ففي الحادي والعشرین، ثم هکذا في الأسابیع‘‘. (17/117، باب العقیقہ، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)-
و فی الفتاویٰ الهندیة: العقیقة عن الغلام وعن الجاریة، وهي ذبح شاة في سابع الولادة وضیافة الناس وحلق شعره مباحة لا سنة ولا واجبة، کذا في وجیز الکردري''، (الباب الثاني والعشرون في تسمیة الأولاد ۵؍۳۶۲ رشیدیه)-