میری بیوی زنا کرتے ہوئے میرے چچا کے بھائی کے ساتھ پکڑی گئ، میں اس کا شوہر ہوں، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اب وہ مجھ سے معافی مانگتی ہے روز اور روتی ہے، گناہ ہو گیا اور کہتی ہے اللہ سے بھی مانگوں گی اور کبھی نہیں کروں گی۔ میرا سوال یہ تھا اسلام کیا کہتا ہے، میں اس کے ساتھ رہ سکتا ہوں یا میرے لیے وہ اب حرام ہے؟
واضح ہو کہ زنا کا ارتکاب کرنا ناجائز و حرام اور شریعت کی نظر میں ایک نہایت سنگین جرم ہے، اگر شادی شدہ مرد وعورت زنا کا ارتکاب کریں،تو اس کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے،اور شرعی قانون کے مطابق ایسی عورت اور مرد پر یہ جرم ثابت ہوجانے کے بعد سنگسار کرنےکی سزا جاری ہوگی،لہذاسائل کی بیوی اور اس شخص پر اپنے اس فعل بد پربصدق ِدل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئےاس حرام کاری سے مکمل اجتناب لازم ہے،تاہم سائل کی بیوی اور اس کے چچا کے بھائی سے اس فعل بد کی وجہ سےچونکہ ان کا نکاح متاثر نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے،اس لئے اگر بیوی اس فعل کے ارتکاب پر بصدق ِدل توبہ کرے،اورسائل سےبھی معافی مانگے،اور آئندہ اس فعل سے بچنے کی سائل کو یقین دہانی بھی کرائے،تو ایسی صورت میں اگر سائل کو اس کی سچائی پر یقین ہو کہ وہ مستقبل میں پھر ایسے قبیح فعل کا ارتکاب نہ کرے گی،اور وہ اسے اپنےعقد میں رکھنا چاہے تو رکھ سکتاہے،شرعا اس کی گنجائش ہے۔
کما فی مشكاة المصابيح: و عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن لي امرأة لا ترد يد لامس فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" طلقها " قال: إني أحبها قال: فأمسكها إذن،رواه أبو داود، والنسائي(باب اللعان ص 287 ط: قديمي كتب خانه)
وفی مرقاة المفاتيح:(وعن ابن عباس قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن لي) :بفتح الياء وسكونها (امرأة) : بالنصب على اسم إن (لا ترد يد لامس)أي: لا تمنع نفسها عمن يقصدها بفاحشة (فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (طلقها): قال: إني أحبها قال: (فأمسكها إذن) : أي: فاحفظها لئلا تفعل فاحشة، وهذا الحديث يدل على أن تطليق مثل هذه المرأة أولى، لأنه عليه الصلاة والسلام قدم الطلاق على الإمساك، فلو لم يتيسر تطليقها بأن يكون يحبها، أو يكون له منها ولد يشق مفارقة الولد الأم، أو يكون لها عليه دين لم يتيسر له قضاؤه، فحينئذ يجوز أن لا يطلقها، ولكن بشرط أن تمنعها عن الفاحشة، فإذا لم يمكنه أن يمنعها عن الفاحشة يعصي بترك تطليقها اھ(باب اللعان ج 6 ص 479 ط حقانية)
وفي رد المحتار تحت: (قوله: فما في الوهبانية إلخ) (إلی قوله) قال في البحر: لو تزوج بامرأة الغير عالما بذلك ودخل بها لا تجب العدة عليها حتى لا يحرم على الزوج وطؤها وبه يفتى لأنه زنى والمزني بها لا تحرم على زوجها اھ(فصل فی المحرمات،ج:3،ص:50،ط:سعید)
وفی الدرالمختار: وفي آخر حظر المجتبى لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اھ(فصل فی المحرمات،ج:3،ص:50،ط:سعید)