محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ہمارے والد مرحوم کی جائیداد کی تقسیم اور ہمارے خریدے گئے مکان میں موجودہ ملکیتی حصص کے بارے میں اسلامی (شرعی) حکم کے متعلق آپ کی رہنمائی کا طالب ہوں۔ ہمارے والد 1993 میں انتقال فرما گئے۔ ان کے ورثاء میں شامل تھے: 1 بیوہ (ہماری والدہ)، اور 5 بیٹے (جن میں میں بھی شامل ہوں)۔ والد کے انتقال کے کچھ سال بعد، ہمیں اپنے چچاؤں سے والد کا حصہ وراثت میں ملا۔ ہم نے اس رقم سے خاندان کے نام پر ایک مکان خریدا۔ 2022 میں، ہم نے وہ مکان 1 کروڑ 36 لاکھ روپے میں فروخت کیا۔ اس رقم سے پہلے ہم نے اپنی والدہ کا اسلامی حصہ یعنی آٹھواں(8/1 -12.5%) الگ کیا، جو 17 لاکھ روپے بنتا ہے۔ باقی رقم 1 کروڑ 19 لاکھ روپے تھی، اور یہ پانچوں بیٹوں میں برابر حصص میں تقسیم کی گئی۔ ہر بیٹے کو 23 لاکھ 80 ہزار روپے ملے۔ دو بھائیوں — عمیر عباسی اور یاسر عباسی — نے اپنے مکمل حصے لے لیے۔ باقی 3 بھائیوں اور والدہ کے حصص سے خاندان کے پاس 88 لاکھ 40 ہزار روپے باقی رہے۔ بعد میں، ہم نے دوسرا مکان خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیےایک بھائی، یاسر عباسی، جس نے پہلے ہی اپنا حصہ لے لیا تھا، نے اپنے ذاتی فنڈز سے اضافی 1 کروڑ 25 لاکھ روپے کا تعاون کیا۔ مکان کی خریداری کے لیے باقی رقم، 88 لاکھ 40 ہزار روپے، 3 بھائیوں (اویس عباسی، عابد عباسی، اسد عباسی) اور ہماری والدہ کے اجتماعی حصے سے آئی۔ اس تعاون کی بنیاد پر، ہم نے نئے مکان کی ملکیت اس طرح شمار کی: والدہ + 3 بھائیوں کا اجتماعی حصہ88 لاکھ 40 ہزار روپے = 41.42% تعاون کرنے والے بھائی (یاسر عباسی) کا حصہ، 1 کروڑ 25 لاکھ روپے = 58.58% ۔یہ بتا دوں کہ دونوں بار، پہلے وراثتی فنڈز سے خریدا گیا مکان اور بعد میں خریدا گیا نیا مکان، صرف سہولت اور خاندانی اعتماد کی وجہ سے ہماری بیوہ والدہ کے نام رکھے/رجسٹرڈ کیے گئے، نہ کہ اس لیے کہ انہوں نے خود مکمل رقم ادا کی تھی۔ ہمارا سوال: ہم عاجزی سے آپ سے رہنمائی چاہتے ہیں کہ کیا مذکورہ بالا تقسیم اور ملکیتی حصص کا حساب شریعت کے مطابق ہے؟ اگر ہمارے طریقے میں کوئی خرابی ہے تو براہِ کرم صحیح اسلامی حکم سے آگاہ فرمائیں، تاکہ ہم باہمی رضامندی سے اسے درست کر سکیں۔ جو بھی شرعی حکم (فتویٰ) آپ اس معاملے پر مہربانی سے فراہم فرمائیں گے، ہم اسے تحریری طور پر دستاویز بنائیں گے اور اس کے مطابق عمل کریں گے۔ آپ کا تفصیلی مشورہ اس معاملے کو منصفانہ اور اسلام کے مطابق طے کرنے میں ہماری مدد کرے گا۔ جزاک اللہ خیرا۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے والد مرحوم 1993 میں انتقال کرگئےتو اس وقت اگر سوال میں مذکور ورثاء( ایک بیوہ اور پانچ بیٹے ) ہی موجود تھے تو والدہ کا آٹھواں حصہ8/1 نکال کر باقی رقم پانچوں بیٹوں میں برابر تقسیم کرنا شرعاً درست تھا،جس میں بیوہ اورہربیٹے کے اپنے حصہ پرقبضہ کرلینے کے بعدمرحوم کے ترکہ کے مال کی تقسیم مکمل ہوگئی اورہروارث اپنے حصے کامالک ومختارہوگیاتھا ،بعد ازاں جب سائل کی والدہ اور تین بھائیوں نے اپنے حصوں میں سے جمع شدہ رقم ( اٹھاسی لاکھ چالیس ہزار روپے) اور ایک بھائی (یاسر عباسی) کی ذاتی رقم (ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے) ملا کر مکان خریداگیاتومذکورمکان مرحوم کا ترکہ شمارنہیں ہوگا،بلکہ یہ مکان اس کی خریداری میں شریک افرادکے درمیان مشترک ہوگااورہرشریک مکان کی خریداری میں اپنی فراہم کردہ رقم کے تناسب سے ملکیت میں شریک شمارہوگا ۔
کما فی الدر:(وهي ضربان شرکۃ ملک وهي أن يملك متعدد ) اثنان فأكثر ( عينا ) الخ(کتاب الشرکۃ،ج:4،ص:299،ط:سعید)
وفی الھندیۃ:الشركة نوعان شرکۃ ملک وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما (الی قولہ)وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك الخ(کتاب الشرکۃ،ج:2،ص:301،ط:ماجدیۃ)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0