کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس گوشت (مرغی /گائے) کا کیا حکم ہے جو غیر مسلم (یہود/ نصاری) ممالک سے درآمدکیا جاتاہے ،اسی طرح اس گوشت کا حکم بھی بتائیں جواپنے ملک کےکسی خطےمیں تیار ہوتی ہو۔
واضح ہو کہ گوشت میں اصل حرمت ہے،لہذا جب تک حلت ثابت نہ ہو،گوشت کو حلال نہیں کہاجائے گا اور اس کا استعمال بھی جائز نہیں ہوگا۔تاہم مسلمانوں کے ملک میں ملنے والےگوشت اورغیرمسلم ممالک سےدرآمدشدہ گوشت کے حکم میں فرق ہے،مسلمانوں کے ملک میں جب تک غیر مسلم کاذبیحہ ہونے یامسلمان کے جان بوجھ کر تسمیہ چھوڑنے کایقینی علم نہ ہو، اس وقت تک مسلمان ملک کا ذبیحہ حلال ہے،جبکہ غیر مسلم ممالک، خصوصاً یہود و نصاریٰ کے ممالک سے درآمد شدہ گوشت کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر وہ گوشت کسی مستند اور معتبر حلال سرٹیفائڈ ادارے سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہو، یا معتبر ذرائع سے یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ ذبیحہ کسی مسلمان نے شرعی طریقے کے مطابق ذبح کیا ہے،یعنی تسمیہ پڑھا گیا، رگیں صحیح طور پر کاٹی گئیں، اور سارا عمل اسلامی طریقہ پر ہواتو ایسا گوشت شرعاً حلال اور اس کا استعمال جائز ہے۔لیکن اگرحلال سرٹیفکیٹ نہ ہو،یاسرٹیفکیٹ دینے والا ادارہ ہی غیر معتبر ہو،یاذبح کرنے والے کے مسلمان نہ ہونے، تسمیہ نہ پڑھنے، یا صحیح طریقہ پر ذبح نہ کرنےکا شبہ ہو،یا مشینی ذبح یا بجلی کےجھٹکے سے مارے جانے کامروجہ طریقہ استعمال ہونے کاغالب گمان ہو ،جیسا کہ ان ممالک میں عام ہے،تو ایسی صورت میں چونکہ گوشت کی اصل حرمت ہے، جب تک حلت ثابت نہ ہو، لہٰذا اس قسم کا مشکوک گوشت حلال نہیں ہوگا اور اس کا استعمال بھی جائز نہیں ہوگا۔
کما قال الله تعالى :{وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ} [الأنعام: 121]
وقال تعالی ایضا: {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ}(المائدة:5)
وفي صحيح البخاري: عن عدي بن حاتم، قال: قلت: يا رسول الله، إني أرسل كلبي وأسمي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إذا أرسلت كلبك وسميت، فأخذ فقتل فأكل فلا تأكل، فإنما أمسك على نفسه» قلت: إني أرسل كلبي، أجد معه كلبا آخر، لا أدري أيهما أخذه؟ فقال: «لا تأكل، فإنما سميت على كلبك ولم تسم على غيره الخ (کتاب الذبائح والصید،ح5484،ج7،ص 88،ط:السلطانیۃ مصر)۔
و في الهداية قال: "وذبيحة المسلم والكتابي حلال" لما تلونا. ولقوله تعالى: {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ} [المائدة:5] الخ(کتاب الذبائح،ج4،ص346،ط:دار احیاء التراث العربی)۔
و في الدر المختار: (ويقبل قول كافر) ولو مجوسيا (قال اشتريت اللحم من كتابي فيحل أو قال) اشتريته (من مجوسي فيحرم) ولا يرده بقول الواحد وأصله أن خبر الكافر مقبول بالإجماع في المعاملات لا في الديانات وعليه يحمل قول الكنز ويقبل قول الكافر في الحل والحرمة يعني الحاصلين في ضمن المعاملات لا مطلق الحل والحرمة كما توهمه الزيلعي الخ( کتاب الحظر والاباحۃ،ج6،ص345،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ:(ومنها)أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمرتد؛ لأنه لا يقر على الدين الذي انتقل إليه،(الی قولہ) فإن انتقل الكتابي إلى دين غير أهل الكتاب من الكفرة لا تؤكل ذبيحته، ولو انتقل غير الكتابي من الكفرة إلى دين أهل الكتاب تؤكل ذبيحته، والأصل فيه أنه ينظر إلى حاله ودينه وقت ذبحه دون ما سواه، وهذا أصل أصحابنا أن من انتقل من ملة من الكفر إلى ملة يقر بها يجعل كأنه من أهل تلك الملة من الأصل، والمولود بين كتابي وغير كتابي تؤكل ذبيحته أيهما كان الكتابي الأب أو الأم عندنا،(کتاب الذبائح،الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه، ج5، ص285،ط: ماجدیۃ)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:الذبح أو الذكاة أو التذكية لغة: القطع أو الشق وإزهاق الحيوان. واصطلاحاً: يختلف بحسب الواجب قطعه في كل مذهب. فعند الحنفية والمالكية: هو فري العروق، والعروق التي تقطع في الذكاة أربعة: الحلقوم، والمريء، والودجان ومحله ما بين الَّلبة والَّلحيين (عظمي الحنك)، لقول النبي صلى الله عليه وسلم: «الذكاة: ما بين الَّلبة والِّلحيةالخ( الباب التاسع: الذبائح والصید، الفصل الاول،تعريف الذبح وحكمه شرعا، ج4،ص2758،ط:دار الفکر)۔
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0