میں نے ایک ہوٹل سے کھانا کھایا ہے جو ایک غیر مسلم کا ہے جہاں پر کھانا پکانے والے بھی ہندو ہیں، مجھے کھانے کے بعد پتہ چلا ہے، میرے لیے اب کیا حکم ہے؟
سائل نے مذکور ہوٹل میں اگر گوشت کے علاوہ کوئی اور چیز کھائی ہو تو اس کا کھانا جائز تھا اگرچہ وہ ہندو کا پکایا ہوا ہو البتہ اگر سائل نے مذکور ہوٹل میں گوشت کھایا ہو اور وہ بھی اس کی ذبح کردہ جانور کا گوشت ہو تو ہندو کا ذبیحہ اگرچہ حلال نہیں مگر چونکہ سائل نے بے خبری میں کھایا ہے اس لئے امید ہے کہ وہ عنداللہ ماخوذ نہ ہوگا مگر بے احتیاطی کا گناہ ہوگا اس لئے اس کو چاہئے کہ اس پر توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لئے خواب احتیاط سے کام لے۔
کما فی الھندیۃ: قال محمد رحمہ اللہ یکرہ الاکل والشرب فی اوانی المشرکین (الٰی قولہ) ولا بأس بطعام المجوس کلہ الا الذبیحۃ فإن ذبیحاتھم حرام ولم یذکر محمد رحمۃ اللہ تعالٰی الأکل مع المجوس ومع غیرہ من أہل الشرک أنہ ہل یحرم أم لا حکی عن الحاکم الإمام عبد الرحمٰن الکاتب أنہ ان ابتلی بہ المسلم مرۃ اور مرتین فلا بأس بہ أما الدوام علیہ فیکرہ کذا فی المحیط: اھ (ج:۵ ص: ۳۴۷)
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0