کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج مسئلہ کے بارے میںکہ میں مسمی ” زید “ قطر میں رہتا ہوں ،اور میرے دوست مسمی ” احمد “ نے مجھ سے کچھ پیسے طلب کیے اورساتھ یہ کہا کہ مجھے بڑے کرینوں کا تجربہ ہے ،لیکن فی الحال میرے پاس چونکہ پیسے کم ہے اس لئے میری خواہش ہے کہ میں آپ کو اس میں شریک کروں ،اور فی الحال میرے پاس پیسے کی تھوڑی کمی ہے اس لئے آپ دو حصے رقم جبکہ میں ایک حصہ رقم دوں گا،اور اس گاڑی کو کمپنی میں لگانے ،ان سے رقم کی وصولیابی اور ڈرائیور وغیرہ کی دیکھ بھال میرے ذمہ ہوگا،اور یہ گاڑی چائنہ سے براستہ قطر مہینہ دو مہینے میں پہنچے گی،میں نے کہا ٹھیک ہے،لیکن اب پانچ مہینے مکمل ہوجانے کے باوجود گاڑی یہاں قطر نہیں پہنچی ہے،اب ممکن ہے کہ اگر میں ان سے گاڑی سے متعلق پوچھوں تو وہ آگے سے کہہ دیں کہ گاڑی دبئی پہنچ چکی ہے،لیکن یہاں قطر میں کام نہ ہونے کی وجہ سےاسے یہاں لانے کے بجائے میں چاہتا ہوں کہ میں اس گاڑی کو دبئی میں منافع پر ہی بیچ دوں،اور وہی نفع ہمارے لئے کافی ہے، اور میں ان سےکہہ دوں کہ ٹھیک ہے ،چونکہ ہم نے منافع کے حصول کیلئے ہی اس گاڑی کو خریدنا تھا لیکن اگر ہمیں وہ گاڑی دبئی میں بیچ کر ہی نفع حاصل ہورہا ہے تو ٹھیک ہے،اب سوال یہ ہے اگر وہ مجھے نفع دے رہا ہے ،تو کیا یہ نفع میرے لئے لینا جائز و درست ہے؟ اور اس میں سود کا کوئی عنصر شامل تو نہ ہوگا؟جبکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ گاڑی واقعۃً اس نے خریدی ہے؟ اور یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ گاڑی واقعۃً دبئی پہنچ کر بیچی جارہی ہے یا نہیں ؟ اور اس کا مجھے نفع دینے کے بعد اپنے لئے اس نے کوئی نفع رکھا ہوا ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں مسمیان ” زید اور احمد “ کے درمیان مذکور معاملہ کی نوعیت شرکتِ عنان کی ہے،اور شرکتِ عنان میں شریکین کا سرمایہ،نفع ،تصرف اور ذمہ داری وغیرہ کسی چیز میں برابری شرط نہیں ،بلکہ سرمایہ کی طرح تصرف اور نفع کی مقدار بھی تناسب (آدھا ،تہائی ،چوتھائی وغیرہ ) کے اعتبار سے اپنی مرضی سے طے کرسکتے ہیں ، البتہ اس میں ”سلیپنگ پارٹنر“ (یعنی جو شریک صرف پیسہ لگاتا ہے کاروبار میں عملا کوئی کردار ادا نہیں کرتا )کیلئے اس کےسرمایہ کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر کرنا شرعاً جائز نہیں ،تاہم نقصان میں دونوں شرکاء بقدرِ سرمایہ شریک ہوں گے،جبکہ سلیپنگ پارٹنر کو اگرچہ عامل ( کام کرنے والا) کے کام اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کے طریقۂ کار کا معلوم ہونا ضروری نہیں ،لیکن کام کا طریقۂ کار فریقین کے درمیان طے شدہ معاہدے اور شرائط کے مطابق ہونا ضروری ہے،اسی طرح اس بات کا اطمینان اور یقین بھی ضروری ہے کہ عملاً بھی وہ رقم کسی کاروباری مراحل سے گزر کر نفع حاصل کیا جائے ورنہ فقط رقم پر وقت گزرنے کی وجہ سے فرضی ٹرانزیکشن کی بنیاد پر نفع چارج کرنا جائز نہ ہوگا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے دوست مسمی ” احمد “ نے اگر واقعۃً گاڑی خرید کر دبئی منگوائی ہو اور وہاں پہنچنے کے بعد حسبِ معاہدہ کسی کام پر لگانے کے بجائے دونوں شرکاء کی باہمی رضامندی سے یہ گاڑی فروخت کرکے نفع حاصل کر لیا جائے تو یہ معاملہ شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا،اور اس پر حاصل شدہ منافع طے شدہ تناسب سے دونوں شرکاء کے درمیان تقسیم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (ھی) بکسر فسکون فی المعروف لغۃ الخلط، سمی بھا العقد لأنہ سببہ، وشرعاً (عبارۃ عن عقد بین المتشارکین فی الأصل والربح) جوھرۃ إلخ(کتاب الشرکۃ، ج: 4، ص: 299، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وشرطھا) أی شرکۃ العقد (کون المعقود علیہ قابلا للوکالۃ) فلا تصح فی مباح کاحتطاب (وعدم مایقطعھا کشرط دراھم مسماۃ من الربح لأحدھما) لأنہ قد لایربح غیر المسمی (وحکمھا الشرکۃ فی الربح وھی) أربعۃ إلخ۔
وفی رد المحتار تحت: (قولہ وحکمھا الشرکۃ فی الربح إلخ) الواو للحال (إلی قولہ) ثم یقول: فماکان من ربح فھو بیننا علی قدر رؤوس أموالھما، وماکان من وضعیۃ أو تبعۃ فکذلک، ولاخلاف أن اشتراط الوضیعۃ بخلاف قدر رأس المال باطل واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحیح فیما سیذکر إلخ(کتاب الشرکۃ، ج :4، ص: 305، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: أما شرکۃ العنان فھی أن یشترک اثنان فی نوع من التجارات بر أو طعام أو یشترکان فی عموم التجارات ولایذکر ان الکفالۃ والمفاوضۃ فیھا فتضمنت معنی الوکالۃ دون الکفالۃ حتی تجوز ھذہ الشرکۃ بین کل من کان من أھل التجارۃ (إلی قولہ) والمساواۃ فی رأس المال لیست بشرط ویجوز التفاضل فی الربح مع تساویھا فی رأس المال کذا فی محیط السرخسی (إلی قولہ) وإن شرطا الربح للعامل أکثر من رأس مالہ جاز علی الشرط ویکون مال الدافع عند العامل مضاربۃ ولو شرطا الربح للدافع أکثر من رأس مالہ لم یصح الشرط ویکون مال الدافع عند العامل بضاعۃ ولکل منھما ربح مالہ کذا فی السراجیۃ (إلی قولہ) فإن الربح بینھما علی الشرط والوضیعۃ أبدا علی قدر رؤوس أموالھما إلخ(کتاب الشرکۃ، الباب الثالث فی شرکۃ العنان، ج: 2، ص: 319۔320، ط: ماجدیۃ)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0