ہمارا مدرسہ ایک کمپنی کی طرف سے چلا رہا ہے۔ پراویڈنٹ فنڈ کافی عرصے سے چل رہا تھا۔ پھر چار پانچ سال تک بند رہا۔فی الحال الحمدللہ ہمیں ہر ماہ پوری تنخواہ ملتی ہے۔ اب تمام اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے مدرسہ والے کمپنی سے پراویڈنٹ فنڈ کو دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ جہاں ہر ماہ ہر ایک کی تنخواہ سے ایک مخصوص حصہ کاٹا جائے گا۔مدرسہ والے چاہتے ہیں کہ اسے لازمی قرار دیا جائے۔ نتیجے کے طور پر، ملازمین کے لیے یہ رقم بعد میں حکومتی (لازمی) پراویڈنٹ فنڈ کی طرح اضافی کے ساتھ لینا جائز ہوگا۔ میرا مفتی صاحب سے سوال ہے کہ کیا ہماری تجویز درست ہے یا نہیں؟ اگر کمپنی ہماری درخواست کی وجہ سے اسے دوبارہ شروع کرتی ہے تو کیا یہ حکومت کے لازمی پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہوگا؟ یا یہ رضاکارانہ پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہوگا؟ ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں کسی ملازم کی اجازت کے بغیر اس کی تنخواہ سے رقم کاٹنا جائز ہے؟ براہ کرم ہمیں دستاویزات کے ساتھ مطلع کریں۔ اللہ آپ کی خدمت کو قبول فرمائے۔ آور قیامت تک باقی رکھے۔
نوٹ: اس کمپنی کا نام " شمس گروپ آف کمپنیز" (Shams Group of Companies)یہ حلال کمپنی ہے ۔ یہ کمپنی جہاز کی کاروبار کرتے ہیں، اس کمپنی پر حکومت کی طرف سے اپنے ملازمین کے لئے پراویڈنٹ فنڈ دینا لازم نہیں۔یہ کمپنی شریعت کی تعمیل کے لیے پرعزم ہے۔
صورت مسئولہ میں مدرسہ کے ملازمین کا کمپنی کو پراویڈنٹ فنڈ شروع کرنے کی تجویز دینے میں شرعا کو ئی مضائقہ نہیں ، لیکن اس تجویز کے ساتھ انھیں چاہیئے کہ وہ اس ادارے کو اس بات پر بھی آمادہ کرنے کی کوشش کریں کہ وہ اس فنڈ کی رقم سودی اداروں اور معاملات میں انویسٹ کرنے کے بجائے غیر سودی اداروں میں انویسٹ کرنے کا اہتمام کریں ، تاکہ اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی رقم کا استعمال ملازمین کے لیے بلاشبہ جائز اور حلال رہے ، جبکہ ضابطہ اور پالیسی بن جانے کے بعد ادارے سے منسلک کوئی بھی ملازم جب ابتدائے عقد کے وقت ادارے کی تمام پالیسیوں کے ماننے پر رضامندی ظاہر کردے ، تو ادارے کی پالیسی کے مطابق اس کمپنی کے لیے اس ملازم کی تنخواہ سےفنڈ کی مد میں جبرا کٹوتی کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
کما فی البحر الرائق: وفی البحر الرائق : (قوله: بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لايملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة، والمراد أنه لايستحقها المؤجر إلا بذلك، كما أشار إليه القدوري في مختصره، لأنها لو كانت دينًا لايقال: إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها، فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه، وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها اھ (کتاب الاجارۃ ، ج: 7 ، ص: 300 ، ط: ماجدیة)ـ
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0