السلام وعلیکم
جناب اعلی۔
میں ایک آن لائن کمپنی کے لیے کام کرتا ہوں۔ جہاں میں نے اپنا سیکیورٹی ڈپازٹ ( قابل واپسی) رکھوا کر اکاؤنٹ کھلوایا ہے۔ کمپنی مجھے روزانہ کا کام دیتی ہے جس کے عوض مجھے روزانہ کی اجرت ملتی ہے۔ جس دن میں اپنا کام پورا نہ کر سکوں تو مجھے اجرت نہیں ملتی۔ براۓ مہربانی اس پر روشنی ڈالیں کہ کیا میرا یہاں سے کمایا گیا پیسہ حلال ہے یا حرام؟ والسلام۔
سائل نے اپنے کام کی تفصیل اور طریقہ کار بیان نہیں کیا تاکہ اس کے مطابق حکمِ شرعی بیان کیا جاتا۔ تاہم، اگر اس کام میں کوئی غیر شرعی امور جیسے دھوکہ دہی، ناجائز اور غیر اخلاقی مواد کی نشر و اشاعت وغیرہ شامل نہ ہوں اور وہ کام بھی ایسا ہو کہ عرف میں اس کی اجرت لی جا سکتی ہو، تو اس طرح کام کر کے اجرت لینے کی اجازت ہوگی، ورنہ نہیں۔
کما فی الھندیۃ:وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا. (کتاب الاجارۃ،ج:4،ص:411،ط:دار الفکر)
و فيه ايضاً:وإنما يعرف استحقاق الأجر بالعمل على العبارة الأولى بإيقاع العقد على العمل كما لو استأجر خياطا ليخيط له هذا الثوب بدرهم أو استأجر قصارا ليقصر له هذا الثوب بدرهم، وإنما يعرف استحقاق الأجر بتسليم النفس وبمضي المدة بإيقاع العقد على المدة كما لو استأجر إنسانا شهرا ليخدمه والإجارة على العمل إذا كان معلوما صحيحة بدون بيان المدة والإجارة على المدة لا تصح إلا ببيان نوع العمل وإذا جمع بين العمل وبين المدة وذكر العمل أولا.اھ(الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك،ج:4،ص:499،ط:دار الفكر بيروت)
و فی النہایۃ تحت (قولہ:وفي الاستحسان يجوز؛ لأن أعمال الخدمة معلومة فيما بين الناس عرفا ، والمعروف فيما [بين]الناس كالمشروط) القاعدة: المعروف عرفا كالمشروط شرطا، وهذه من أهم القواعد، وهي متممة لقاعدة: العادة محكمة ومعنى المعروف عرفا كالمشروط شرطا: أن العرف السائد بين الناس إذا اتفقوا عليه في شيء ما فإنه يعتبر في الشرع كالشرط، فإذا اتفق الناس على شيء أو كان بينهم عرفا، فإنه يعتبر شرطا، ولا بد أن يوف هذا الشرط.اھ(کتاب المضاربۃ:ج:20مص:106،ط:مركز الدراسات الإسلامية )