این جی آر ( NGR )اور دوسری کمپنیاں ،جن میں لوگ آجکل انویسٹمنٹ کررہے ہیں ، جس سے یہ کمپنیاں روزانہ کے حساب سے پروفٹ دے رہی ہیں ،کمپنی کو فائدہ یا نقصان ہو ، انویسمنٹ کرنے والے کو روزانہ کے حساب سے فائدہ ملتا رہے گا ، یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کمپنیاں پیسے کہاں استعمال کررہی ہیں ؟ انویسمنٹ کرنے سے پہلے کمپنی Percentage بھی طے نہیں کرتا ، فکسڈ فائدہ طے ہے۔
کیا ان کمپنوں کے ساتھ انویسمنٹ کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ کسی بھی کمپنی کی محض موبائل اپلیکیشن کے استعمال ، یا دوچار معاملات (Transactions) کو دیکھ کر ، اس کے مکمل کاروبار کے جائز یا ناجائز ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ، جب تک اس کمپنی کی مکمل تفصیلات مثلاَ: کاروبار کی بنیادی نوعیت ، کاروبار کا عملی طریقہ کار ، کمپنی کی قانونی حیثیت اور اس کے تمام پراجیکٹس کی مکمل تفصیلات سامنے نہ ہوں ، لہذا جب تک مذکور کمپنی(N.G.R)یا اس کے علاوہ کسی بھی کمپنی کے متعلق درجِ بالا باتوں کی تفصیل معلوم نہ ہو ، تب تک ان کے متعلق کوئی حتمی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔
تاہم سوال میں مذکوراین جی آر کمپنی کی ویب سائٹ اور اپلیکشن میں درج کردہ تفصیلات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا ، کہ مذکور کمپنی کی ایپ کے ذریعہ سرمایہ کاری(Investment) کے مختلف پلانزموجود ہیں ،جس میں پلان نمبر ایک میں صارف کومخصوص رقم ، متعین ایام کےلیے انویسٹ کرنے کے ساتھ ہی ، یومیہ اعتبارسے نفع (Profit) ملناشروع ہوجاتاہے ، اور یہ منافع (Profit) کاروبار میں ہونے والے حقیقی منافع کے بجائے انویسٹ کردہ سرمایہ کے تناسب سےطے کیاجاتاہے ، جبکہ بقیہ پلانز میں داخل ہونے کے لیےنیٹ ورک مارکیٹنگ کے طریقہ کارکے مطابق ، صارف کے توسط (Link) سے اس کمپنی کو جوائن کرناضروری ہوتاہے ، اور صارف کو ان کی توسط سے جوائن کرنے والوں کے نفع (Profit) میں سے طے شدہ حصہ ملتاہے ، اسی طرح اس چین میں جتنے افراد مزید شامل ہوں گے ، تو نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طریقہ کار اور ضابطے کے مطابق ، صارف بھی ان سب کے نفع میں سے حصہ دار ہوگا۔
چنانچہ مذکور تفصیل کے مطابق این جی آر ایپ کے ذریعہ سرمایہ کاری کرنے میں درجِ ذیل خرایباں پائی جاتی ہیں۔
• سرمایہ کاری کرنے والے شخص کا نفع اس کے سرمایہ کے تناسب سے طے ہوتاہے ، جبکہ شرعاً کاروبار میں نفع کی تقسیم کیلئے کاروبار میں ہونے والے حقیقی نفع کے تناسب سے طے کرنا ضروری ہے ۔
• اس کاروبار کے پلان نمبر ایک علاوہ دیگر پلانز میں نفع کے حصول کے لیے نیٹ ورک مارکیٹنگ کا طریقہ کار اختیار کیاجاتاہے، جوشرعاًجائز نہیں۔
• کاروبار میں ممکنہ نقصان کی صورت میں سرمایہ کار اور کمپنی کے درمیان کوئی صورت حال واضح نہیں ، کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
• گوگل پلے اسٹور پر موجود ، مذکور کمپنی کی ایپ پر ، متعدد افراد کی انویسٹ کردہ رقم واپس نہ ملنے اور اس کے جعلی ہونے کی شکایات بھی موجود ہیں، جس سے اس کمپنی کا غیرمعتمد ہونا بھی واضح ہوجاتاہے۔
لہذا درجِ بالا شرعی وجوہات اور اس ایپ کے ذریعہ سرمایہ کاری کے غیرمعتمد ہونے کی بنیاد پر ، اس میں سرمایہ کاری (Investment)کرنے سے احتیاط ضروری ہے۔
کما فی ردالمحتار : (و شرطها) أي شركة العقد (كون المعقود عليه قابلا للوكالة) فلا تصح في مباح كاحتطاب (و عدم ما يقطعها كشرط دراهم مسماة من الربح لأحدهما) لأنه قد لا يربح غير المسمى(و حكمها الشركة في الربح،)(4/305)۔
و فی البنایۃ شرح الھدایۃ: و قد نهى النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن بيع الملامسة و المنابذة. و لأن فيه تعليقًا بالخطر".م: (تعليقًا) ش: أي تعليق التمليك م: (بالخطر) ش: و في " المغرب "، الخطر: الإشراف على الهلاك ، قالت الشراح : و فيه معنى القمار؛ لأن التمليك لايحتمل التعليق لإفضائه إلى معنى القمارالخ (8/158)۔
و فی الشامیۃ تحت:( قوله : و مع التفاضل في المال دون الربح) و في النهر : اعلم أنهما إذا شرطا العمل عليهما إن تساويا مالا و تفاوتا ربحا جاز عند علمائنا الثلاثة خلافا لزفر و الربح بينهما على ما شرطا و إن عمل أحدهما فقط ؛ و إن شرطاه على أحدهما ، فإن شرطا الربح بينهما بقدر رأس مالهما جاز ، و يكون مال الذي لا عمل له بضاعة عند العامل له ربحه و عليه وضيعته ، و إن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط و يكون مال الدافع عند العامل مضاربة ، و لو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لا يصح الشرط و يكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله و الوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا هذا حاصل ما في العناية اهـ ما في النهر.(4/312)-