السلام علیکم
میں فارسیج کے کاروبار کے بارے میں بوچھنا چاہتاہوں کہ یہ حلال ہے یا حرام ؟مجھے ایک دوست نے جوائن کرنے کیلئے انوائیٹ کیا اور جامعہ بنوریہ کا فتوی بھی سینڈ کیا کہ یہ کام جائز ہے،اس فتوی کا سیریل نمبر 26914 ہے،مجھے پوچھنا یہ تھا کہ کیا یہ فتوی ٹھیک ہے؟
سائل نے سوال میں جس فتوی ( سیریل نمبر 26914) کا حوالہ دیاہے،اس سیریل نمبرپر ”فورسیج “ نامی کاروبار کے متعلق دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ سے کوئی فتوی جاری نہیں ہوا ، اور نہ ہی اس کے علاوہ فورسیج سے متعلق دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جواز کا کوئی فتوی جاری ہواہے، بلکہ اس سیریل نمبر پر تکافل سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب جاری ہواہے، جس میں کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں نے فوٹو شاپ وغیرہ کے ذریعہ ردوبدل (Editing) کرکے اس جعلی فتوی کو دارلافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ کی طرف منسوب کرکے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے اس کو استعمال کیا اور عوام میں اس کی تشہیر کی ، جو کہ نہ صرف یہ کہ اخروی پکڑ کا باعث ہے، بلکہ قانوناً بھی ایک قابل مواخذہ جرم ہے، لہذا حکومتی مقتدر حلقوں کو چاہیئے کہ اپنے فرائض منصبی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح کے جعلسازوں کے خلاف ضابطے کی کاروائی عمل میں لائیں تاکہ ان مذموم حرکات کی روک تھام کویقینی بنایاجاسکے اور عوام کو بھی چاہیئے کہ بلاتحقیق اس طرح کے جعلی فتوؤں کی تشہیر کرکے غیردانستہ طورپران جعلسازوں کے مذموم مقاصد کے حصول کا ذریعہ نہ بنیں۔
جبکہ" فورسیج نامی " کاروبارسے متعلق اب تک جو معلومات موصول ہوئی ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ ایک”ملٹی لیول مارکیٹنگ“ کے تحت چلنے والا ایک نظام ہے، جس کا بنیادی مقصد کسی پروڈکٹ (کرنسی وغیرہ) کی خریدفروخت اور کاروبار کرنا نہیں ہوتا ، بلکہ محض ممبرشپ کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس چین میں شامل کرکے ان سے سرمایہ اکٹھا کرناہے، جس کے لئے ممبران کو” نیٹ ورک مارکیٹنگ“ کے طریقہ کارپر ڈاؤن چین میں شامل ہونے والوں کی رقم سے کمیشن کی لالچ دیکر کمپنی کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جاتی ہے۔
چنانچہ "فورسیج " نامی کاروبار کے طریقہ کا پر غور وفکر کے بعد معلوم ہوتاہے کہ اس میں درجِ ذیل مفاسد پائے جاتے ہیں۔
• " فورسیج "نامی کاروبار میں درحقیقت مصنوعات کی خریدفروخت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے ممبر بننے والوں کا یہ مقصد ہوتاہے، بلکہ کمپنی کو اپنی تشہیر کے لئے زیادہ سے زیادہ ممبرز اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لئے کمپنی لوگوں سے مخصوص رقم لیکر اس چین کا حصہ بنالیتی ہے اور مزید لوگوں کو شامل کرنے کے لئے انہیں ایک لنک دیاجاتاہے، پھر اگرکوئی شخص اس پرانے ممبرکے توسط سے اس چین کا حصہ بنتاہے، تو اس کی رقم سے پرانے ممبر کو کمیشن دیاجاتاہے، اور یہ سلسلہ کمیشن درکمیشن چلتا رہتاہے، لیکن اگر کوئی ممبر مزید لوگوں کو شامل کرنے میں ناکام رہے، تو اس کو کمیشن کی صورت میں منافع بھی نہیں ملتا، جو کہ غرر اور قمارکی ایک صورت ہے۔
• اس بلاک چین میں کمپنی اور ممبر کے درمیان ہونے والے معاملے کی حیثیت اور نوعیت کی کوئی وضاحت نہیں ، بلکہ ایک مجہول عقد کے نتیجے میں اسے نفع مل رہا ہوتاہے۔
• اس کمپنی میں بالواسطہ ممبرز بننے والوں کے عمل سے ماقبل کے ممبرکو بغیر کسی محنت وعمل کے منافع مل رہاہے، جو شرعاً جائز نہیں۔
لہذا" فارسیج" کمپنی میں محض ممبر سازی کے تحت لوگوں کو کمیشن کی لالچ دیکر ان سے سرمایہ اکھٹا کرنا ہی اصل مقصد ہے، کسی چیز کی خریدفروخت اور کاربار مقصود نہیں ، اس لئے اس کمپنی کا ممبر بننے یا دوسرے لوگوں کو اس اس میں شمولیت کی دعوت دینے سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ مذکور فتوی کی اسکین کاپی دیکھنے کیلئے اس لنک کو ملاحظہ فرمائیں۔شکریہ
https://www.onlinefatawa.com/view_fatwa/62690
قال اللہ سبحانہ و تعالی :﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾.(المائدة:90)۔
و لا خلاف بین أہل العلم في تحریم القمار ، و أن المخاطرۃ من القمار ، قال ابن عباس : إن المخاطرۃ قمار ، و إن أہل الجاہلیۃ کانوا یخاطرون علی المال و الزوجۃ و قد کان ذلک مباحاً إلی أن ورد تحریمہ۔(فی أحکام القرآن للجصاص: ۱/۳۹۸)۔
نہی رسول اللّٰہ صلى الله عليه و سلم عن بَیْعِ الْغَرَرِ (مسلم، ابوداؤد: 6۷۳۳)۔
و لو کان الخطر من الجانبین جمیعًا و لم یدخلا فیہ محللاً لا یجوز ؛ لأنہ في معنی القمار ، نحو أن یقول أحدہما لصاحبہ إن سبقتني فلک عليّ کذا ، و إن سبقتک فلي علیک کذا ، فقبل الآخر"(بدائع الصنائع فصل في شروط جواز السابق ۸/۳۵۰ دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً و ينقص أخرى ، و سمي القمار قماراً ؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ، و يجوز أن يستفيد مال صاحبه و هو حرام بالنص۔(شامی : 6/403)۔