السلام عليكم ورحمة الله وبركاته …عورت کا پردہ کرتے وقت پیشانی کھلی رکھنا کیسا ہے؟ میری بیٹی یونیورسٹی اور کہیں جاتے ہوۓ اس کا خیال نہیں رکھتی۔۔۔ میں سمجھاتا ہوں وہ سنتی ہے مگر عمل نہیں کرتی۔۔۔ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے، مجھے کیا کرنا چاہیے؟ راہ نمائی فرمائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دین سے متنفر ہوجاۓ۔۔ یوٹیوب کے ذریعہ اس کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ چہرے کے پردے میں اختلاف ہے۔۔ مجھے کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
عورت کے چہرے کے پردے سے متعلق اگرچہ اہلِ علم کے ہاں کچھ تفصیل پائی جاتی ہے، اور بعض حضرات نے ضرورت کے مواقع پر، فتنے کا اندیشہ نہ ہونے کی صورت میں، چہرہ کھلا رکھنے کی گنجائش بھی دی ہے، تاہم اس گنجائش کو بنیاد بنا کر عورت کے لیے غیر مردوں کے سامنے مستقل طور پر چہرہ کھلا رکھنا قطعاً درست طرزِ عمل نہیں۔ لہٰذا سائل کی بیٹی اگر پردہ کرتے وقت پیشانی مستقل طور پر کھلی رکھتی ہے تو چونکہ پیشانی چہرے ہی کا حصہ ہے، اس لیے اس کا کھلا رہنا شرعاً کامل پردے کے منافی اور واجب پردے کی ادائیگی میں خلل کا باعث ہے۔ لہٰذا سائل کی بیٹی کو مکمل چہرہ (بشمول پیشانی) چھپانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جبکہ سائل کو چاہیے کہ اس معاملے میں سختی کے بجائے حکمت، نرمی، تدریج اور حسنِ نصیحت کے ساتھ بیٹی کی تربیت کرے، تاکہ اس کے دل میں دین سے نفرت کے بجائے محبت اور اعتماد باقی رہے، اور مسلسل دعا و خیرخواہی کے ساتھ اصلاح کا عمل جاری رکھے۔
كما في تفسير الطبري : عن ابن عباس، قوله: {يا أيها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن} [الأحزاب: 59] «أمر الله نساء المؤمنين إذا خرجن من بيوتهن في حاجة أن يغطين وجوههن من فوق رءوسهن بالجلابيب، ويبدين عينا واحدة ( ج 19، ص 181، ط : دار هجر للطباعة و النشر والتوزيع، مصر)-
و في تفسير ابن كثير : وقال محمد بن سيرين: سألت عبيدة السلماني عن قول الله تعالى: {يدنين عليهن من جلابيبهن} ، فغطى وجهه ورأسه وأبرز عينه اليسرى ( ج 6، ص 482، ط : دار طيبة للنشر و التوزيع)-
و في فتح القدير للشوكاني : قال الواحدي: قال المفسرون: يغطين وجوههن ورؤوسهن إلا عينا واحدة ( ج 4 ، ص 349، ط : دار ابن كثير، دمشق)-
و في الدر المختار : (وتمنع ) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) ( كتاب الصلاة، ج 1، ص 406، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة ( مطلب في ستر العورة، ج 1، ص 406، ط : سعيد)-
و في المبسوط للسرخسي : وحد الوجه من قصاص الشعر إلى أسفل الذقن إلى الأذنين؛ لأن الوجه اسم لما يواجه الناظر إليه ( كتاب الصلاة، ج 1، ص 6، ط : دار المعرفت، بيروت)-
و في تاج العروس : (و) النقاب، أيضا: (ما تنتقب به المرأة) ، وهو القناع على مارن الأنف، قاله أبو زيد. والجمع نقب. وقد تنقبت المرأة، وانتقبت. وفي التهذيب : والنقاب على وجوه (إلى قوله) إنما كان النقاب لاصقا بالعين، وكانت تبدو إحدى العينين، والأخرى مستورة الخ ( ج 4، ص 298، ط : وزارة الإرشاد و الأنباء في كويت) -
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0