کیا ہمیں کسی ایسے بچے سے نقاب کرنا ہوگا جو 14 سال کا ہے، لیکن وہ ذہنی طور پر اپنی عمر سے پیچھے ہے عام لوگوں کی طرح نہیں ، کچھ بچے بو ل نہیں سکتے اور ذ ہنی طور پر عمر سے پیچھے رہتے ہیں ؟
واضح ہو کہ چودہ سالہ بچے کو ذہنی معذوری کی وجہ سےعورتوں میں دلچسپی اور ان کی طرف میلان نہ ہو تو شرعاً اس سے پردہ کرنا لازم نہ ہوگا ، تاہم بہتر یہ ہےکہ اس کے سامنے بھی چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ بقیہ جسم کو ڈھانپ کر رکھا جائے.
کما فی تفسیر الطبری : القولُ في تأويلِ قولِه تعالى : ﴿أَ وِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَ وِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَ لَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (٣١)﴾. يقولُ تعالى ذكرُه : و الذين يَتَّبِعونكم لطعامٍ يَأْكُلونه عندَكم ، ممَّن لا إرْبَ له في النساءِ مِن الرجالِ ، و لا حاجةَ به إليهن و لا يُرِيدُهن . و بنحوِ الذي قلنا في ذلك قال أهلُ التأويلِ . ذكرُ مَن قال ذلك حدَّثنى محمدُ بنُ سعدٍ ، قال : ثنى أبى ، قال : ثنى عمى ، قال : ثنى أبى ، عن أبيه ، عن ابن عباسٍ قولَه : ﴿أَ وِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ﴾ . قال : كان الرجلُ يَتْبَعُ الرجلَ في الزمانِ الأولِ ، لا يَغارُ عليه ، و لا تَرْهَبُ المرأةُ أَن تَضَعَ خمارَها عندَه ، و هو الأحمقُ الذي لا حاجةَ له في النساءِ اھ (17/ 66)۔
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0