السلام علیکم! جناب مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی کی پھوپھی نے میری بیوی کو دودھ پلایا ہے ، یعنی اُسکی رضاعی ماں ہے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میری بیوی کی رضاعی ماں سے میرے لئے شرعی پردہ کرنا لازم ہے یا نہیں ؟
میرے سسر نے دوسری شادی کی ہے ، تو اُنکی دوسری بیوی بھی میری ساس بنتی ہے یا نہیں ؟ شریعت کی رو سے جواب عنایت فرمائیں! جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ جس طرح حقیقی ساس سے شرعاً پردہ لازم نہیں ، اسی طرح رضاعی ساس سے بھی پردہ لازم نہیں ، لہذا سائل کیلئے اپنی بیوی کی پھوپھی (رضاعی ساس) سے پردہ لازم نہیں۔
جبکہ سوتیلی ساس محارم میں شامل نہیں ، بلکہ اس سے شرعاً پردہ لازم ہے ، لہذا سائل کیلئے اپنی سوتیلی ساس (بیوی کی سوتیلی ماں) سے شرعاً پردہ لازم ہے۔
کما فی سنن ابن ماجه : عن عائشةؓ قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب۔الحدیث (1/623)۔
فی بدائع الصنائع : و يجوز الجمع بين امرأة و بنت زوج كان لها من قبل ، أو بين امرأة و زوجة كانت لأبيها و هما واحد ؛ لأنه لا رحم بينهما فلم يوجد الجمع بين ذواتي رحم۔اھ (2/263)۔
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 1غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0