کیا باپردہ لڑکی کے لۓ اپنی منگنی کے موقع پر لڑکے کے نانا اور چار ماموں(جو کہ شادی شدہ ہیں)کو لڑکے کی والدہ یعنی لڑکی کی ہونے والی ساس کے کہنے یا پھر ایک قسم کے دباؤ پر(اور اپنے بھی والدین کا یہی کہنا ہے) ایک بار چہرہ دکھا دو ،تو اس صورت میں لڑکے کے نانا اور ماموں کو صرف چہرہ دکھانے کی اجازت ہوگی یا نہیں؟ اگر لڑکی نے چہرہ نہ دکھانے پر اصرار کیا تو بعد میں ساس کی طرف سے بہتر سلوک نہ کرنے کا اندیشہ ہے ،اور اگر بالفرض چہرہ دکھا دیا تو اسکا گناہ کس پر ہوگا ؟ رشتہ داری میں رشتہ لگ جانے کے بعد منگنی کے موقع پر کیا لڑکا، لڑکی ایک دوسرے کو ایک بار(براہ راست)دیکھ سکتے ہیں؟ باوجود اسکے کہ ایک,دو سال پہلے ایک دوسرے کو دیکھا بھی ہو (لڑکی کے شرعی پردہ شروع کرنے سے پہلے) جزاک اللہ خیرا!
واضح ہو کہ اگر لڑکے نے مخطوبہ کو پہلے نہ دیکھا ہو تو نکاح سے پہلے ایک نظر دیکھ لینے کی گنجائش ہے ،البتہ اس کیلئے لڑکا،لڑکی کا تنہائی میں ملاقات کرنا یا بے محابا آمنے سامنے آنا یا بلا ضرورت بات چیت ہنسی مذاق کرنا شرعاً درست نہیں ،لیکن اگر لڑکے نے منگنی سے قبل مخطوبہ کو دیکھا ہو ، تو اب نکاح سے قبل دوبارہ دیکھنا شرعاًجائز نہیں ۔
جہاں تک منگیتر کے علاوہ دیگر غیر محرم رشتہ داروں کے دیکھنے کی بات ہے ، تو ان کیلئے مخطوبہ کو دیکھنا شرعاً جائز نہیں ،اور نہ ہی اس بنیاد پر ساس کیلئے اپنی ہونے والی بہو کے ساتھ برے طریقہ سے پیش آنا شرعاً جائز ہے ،بلکہ اس کو اپنے غلط اور ناجائز مطالبہ سے احتراز کرنا چاہیئے ۔
کما قال اللہ تعالی : قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَ قُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَ يَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَ لَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَ لَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ اھ (النور /31)۔
و کما فی الدر المختار : (فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة و إلا فحرام وهذا في زمانهم، و أما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني و غيره (إلا) النظر لا المس (لحاجة) كقاض و شاهد يحكم (و يشهد عليها) لف و نشر مرتب لا لتتحمل الشهادة في الأصح (و كذا مريد نكاحها) و لو عن شهوة بنية السنة لا قضاء الشهوة اھ
و فی الشامیة: و لو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس أن ينظر إليها، و إن خاف أن يشتهيها لقوله - عليه الصلاة و السلام - لمغيرة بن شعبة حين خطب امرأة «انظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما» رواه الترمذي و النسائي و غيرهما و لأن المقصود إقامة السنة لا قضاء الشهوة اهـ ۔(٣٧٠/٦) والله اعلم
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0