السلام علیکم ، میں ایک حجاب پہننے والی ہوں اور 2023 سے ایسا کر رہی ہوں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ میری حجاب مجھے نمایاں ذہنی صحت کے مسائل کا سبب بن رہا ہے، جیسے کم خود اعتمادی، سماجی بے چینی، اور عدم تحفظ یا خود کی قدر نہ ہونے کا احساس۔ اس کے علاوہ حال ہی میں مجھے کچھ جسمانی مسائل بھی ہونے لگے ہیں، جن کے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ ان کا تعلق ذہنی صحت سے ہے یا نہیں، لیکن جب میں اسے گردن کے گرد لپیٹتی ہوں یا گردن کو کسی بھی چیز سے ڈھانپتی ہوں تو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ میں نے ان دونوں مسائل کو حل کرنے کے لیے حجاب کے انداز، کپڑے اور رنگ بدل کر دیکھی لیکن پھر بھی وہی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی ذہنی صحت کی خاطر حجاب اتار سکتی ہوں؟ یا مجھے اس کی اجازت نہیں اور مجھے اسے پہنتے رہنا چاہیے؟ یاد رہے کہ میں نے اپنی پوری طاقت لگا دی، لیکن حجاب پہننے سے میری ذہنی صحت مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ شکریہ۔
واضح ہو کہ حجاب اور پردہ منجملہ اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے ہے، قرآن و احادیث کے صریح نصوص میں جگہ جگہ اس کی تصریح وارد ہوئی ہے، چنانچہ حجاب کو ذہنی یا جسمانی مسائل کے لیے سبب اور باعث سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ از خود احساسِ کمتری میں مبتلا ہونا ہے۔ لہٰذا سائلہ کو چاہیے کہ احساسِ کمتری سے نکل کر پورے وقار اور شان و شوکت سے حجاب کا اہتمام کرے اور اس میں کسی قسم عار، کمی،یا معاشرتی دباؤ محسوس نہ کرے۔
كما قال لله تعالى في القران المجيد: وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ(سورة النور،آیه:٣١)
و قال لله تعالى في مقام آخر: وَإِذَا سَأَلۡتُمُوهُنَّ مَتَٰعٗا فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٖۚ ذَٰلِكُمۡ أَطۡهَرُ لِقُلُوبِكُمۡ وَقُلُوبِهِنَّ(سورة الأحزاب،آيه:٥٣)
و قال لله تعالى في مقام آخر: يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يُعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا(سورة الأحزاب،آيه:٥٩)
و في سنن ابى داؤد :عن أم سلمة، قالت: لما نزلت {يدنين عليهن من جلابيبهن} [الأحزاب:٥٩]، خرج نساء الأنصار كأن على رؤوسهن الغربان من الأكسية(٣٣ - باب في قول لله تعالى: وليضربن بخمرهن على جيوبهن،ج:٢،ص:١٤٧١،مط:البشرى)
وفيه ايضاََ: عن عائشة: أن أسماء بنت أبي بكر دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليها ثياب رقاق، فأعرض عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال: "يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يضلح أن يرى منها إلا هذا وهذا" وأشار إلى وجهه وكفيه.( باب فيما تبدي المرأة من زينتها،ج:٢،ص:١٤٧٢،مط:البشرى)
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0