السلام علیکم و رحمۃ اللہ! سائلہ بطور پیشہ ڈاکٹر ہے اور اینستھیزیا (بے ہوشی) کے شعبے سے وابستہ ہے، جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ ہمارے ہاں ڈاکٹری کے پیشے میں مرد و عورت کی تمیز نہیں کی جاتی اور اکٹھے ہی کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، ڈیوٹی کے دوران بیٹھنے کےلیے کمرہ بھی مشترک ہوتا ہے، ایسے میں عورتیں اور مرد آپس میں ہنسی مذاق اور غل غپاڑہ کرتے ہیں اور جو بات نہ بھی کرنا چاہے اس کو بھی بیچ میں گھسیٹا جاتا ہے اور کام کے دوران بھی اکثر ہنسی مذاق چلتا رہتا ہے، ہمیں سکھانے والے بھی عموماً مرد ہوتے ہیں،ہمیں مریضوں کے متعلق مشورہ کرنے کےلئے ان سے بات کرنی ہی پڑتی ہے، شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے کہ نامحرم سے کس حد تک کلام کرنا اور ان کے ساتھ کام کرنا جائز ہے ؟ اور کیا ان کے ہنسی مذاق کے جواب میں ترش روئی اختیار کرنا درست ہے ؟ (یہ بات واضح رہے کہ اس سے سکھانے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے اور پردہ کرنے والیوں کو بھی سخت مزاج سمجھا جاتا ہے اور نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی مخالفت کرنے لگتی ہیں)؟اور اس کے علاوہ کوئی صورت اس سب سے بچنے کی ہو تو وہ بھی واضح فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً ۔
واضح ہو کہ عورت کا نان نفقہ شریعتِ مطہرہ نے شادی سے پہلے باپ یا بھائیوں پر اور شادی کے بعد شوہر کے ذمہ رکھا ہے، اس لئے بلا ضرورت عورت کا گھر سے باہر جاکر نوکری کرنا درست نہیں، البتہ اگر سائلہ اپنی تعلیمی افادے واستفادے کی غرض سے نوکری کرنا چاہے تو درجِ ذیل شرائط کی پاسداری کے ساتھ نوکری کرسکتی ہے:
(۱) دورانِ ڈیوٹی کسی قسم کی زیب و زینت، خوشبو وغیرہ کا استعمال نہ کرے۔
(۲) تمام بدن بالخصوص چہرہ کے چھپانے کا اہتمام کرے۔
(۳) برقعہ وغیرہ سادہ اور ڈھیلا ڈھالا استعمال کرے۔
(۴) غیر محارم کےساتھ خلوت، فضول گوئی، ہنسی مذاق اور بے تکلفی سے بھی اجتناب کرے۔
(۵) اگر غیر محارم مریض کو دیکھنے اور بات چیت کرنے کی ضرورت پیش آئے تو لہجے میں لچک نہ رکھے۔
(۶) نگاہوں کی مکمل حفاظت کرے۔
(۷) نمازوں کے اوقات کا اہتمام کرے۔
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0