السلام علیکم ! میرا ایک سوال ہے، یہاں پر ایک بندے کا کار کا شور روم ہے، میری اس سے انویسٹمنٹ کی بات ہوئی کہ میں آپ کو کچھ پیسے دیتا ہوں، آپ اس کو اپنے کاروبار میں لگائیں، مجھے اس سے جتنا منافع یا نقصان ہو، وہ میرا، عام طور پر وہ موٹر سائیکل یا کار اقساط پر دیتا ہے، میں نے کوئی رقم فکس نہیں کی، میں نے کہا مجھے یہ رقم 3 ماہ بعد واپس دینا، میں نے اس کو 771،000 روپے دیئے، 2 دن بعد اس نے مجھے کھاتہ بنا کر بھیجا کہ آپ کی رقم میں نے ایک کار میں شامل کی ہے، میں آپ کو کل 10 لاکھ ، 3 ماہ 10 دن بعد دوں گا، تو میرا سوال یہ تھا کہ یہ جو منافع وہ مجھے دے گا، وہ جائز ہے میرے لئے؟ میں نے اس سے کوئی رقم فکس نہیں کی، اس نے اپنی مرضی سے دی۔
سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق شراکت داری کا معاہدہ کرنا بچند وجوہ شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ شرکتِ فاسدہ کہلائے گی جس کا حکم یہ ہے کہ اس معاملہ کو جلد از جلد ختم کرنا لازم ہے، جبکہ شرکتِ فاسدہ میں منافع اصل سرمایہ کے تناسب سے تقسیم کرنا لازم ہے، چنانچہ مذکور رقم ٹوٹل سرمایہ کا جتنا فیصد بنتی ہو منافع میں سے اسی تناسب سے سائل حقدار ہوگا، تاہم اگر سائل شرعی اعتبار سے پارٹنر شپ کرنا چاہتا ہو تو اس کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔
(1) : بوقتِ عقد دونوں کا سرمایہ معلوم ہو، اور نقد کی شکل میں ہو، اگر اثاثہ یا سامان کی شکل میں ہوگا تو شرکت صحیح نہیں ہوگی، ہاں اگر دو فریقوں میں سے ایک کے پاس نقد روپے اور دوسرے کے پاس سامان ہو اور وہ شرکت کرنا چاہیں تو یہ حیلہ اختیار کرسکتے ہیں کہ سامان کا مالک اپنا آدھا سامان دوسرے کو اس کے نصف روپے کے عوض فروخت کردے اور دونوں قبضہ کرلیں، پھر تمام روپے اور سامان کو ملادیا جائے تو روپے اور سامان دونوں کے درمیان مشترک ہو جائیں گے، پھر اس میں عقدِ شرکت کرنا بھی جائز ہوگا۔
(2) : منافع حصہ مشاع (مثلاً جو کچھ نفع ہوگا اس کا نصف، تہائی) کے طور پر طے ہوں، متعین رقم کی شکل میں منافع طے کرنا جائز نہیں ہے، تاہم منافع باہمی رضامندی سے کسی بھی تناسب سے طے کیا جاسکتا ہے، البتہ اتنا لحاظ رکھنا ضرور ی ہے کہ جو شخص صرف رقم میں شریک ہو، ”عمل“ اس کے ذمے نہ ہو یعنی سلیپنگ پارٹنر ہو تو اس کے منافع سرمایہ کے تناسب سے زیادہ متعین کرنا درست نہیں ہے۔
(3) : اگر کبھی خسارہ ہوجائے تو تمام شرکاء کو بقدرِ سرمایہ برداشت کرنا ہوگا، خسارہ کو ایک پر ڈالنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: منھا (شرائط جواز الشرکة) أن یکون الربح معلوم القدر․․․ وأن یکون جزء ًا شائعًا في الجملة لا معینا․․․ أما الشرکة بالأموال فلھا شروط، منھا أن یکون رأس المال من الأثمان المطلقة․․․ وھي الدراھم والدنانیر عنانًا کانت الشرکة أو مفاوضة (إلی قولہ) ولو کان من أحدھما دراھم ومن الآخر عروض فالحیلة فی جوازہ أن یبیع کل واحد منھما نصف مالہ بنصف دراھم صاحبہ ویتقابضا ویخلطا جمیعًا حتی تصیر الدراھم بینھما والعروض بینھما ثم یعقدان علیھما عقد الشرکة فیجوز الخ (کتاب الشرکۃ، ج: 6، ص: 59، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی البحر الرائق : (قولہ وتصح مع التساوی فی المال دون الربح وعکسہ) وھو التفاضل فی المال والتساوی فی الربح وقال زفر والشافعی لایجوز لأن التفاضل فیہ یؤدی إلی ربح مالم یضمن فان المال إذا کان نصفین والربح أثلاثا فصاحب الزیادۃ یستحقھا بلاضمان إذا الضمان بقدر رأس المال لان الشرکۃ عندھما فی الربح کالشرکۃ فی الاصل ولھذا یشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلۃ نماء الاعیان فیستحق بقدر الملک فی الاصل ولنا قولہ ﷺ الربح علی ما شرط والوضیعۃ علی قدر المالین ولم یفصل الخ
وفیہ ایضاً : (قولہ وتفسد ان شرط لاحدھما دراھم مسماۃ من الربح ) لانہ شرط یوجب انقطاع حق الشرکۃ فعساہ لایخرج الا بقدر المسمی لاحدھما الخ (کتاب الشرکۃ، ج: 5، ص: 174، 177، ط: رشیدیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: (وأما) عندنا فالربح تارۃ یستحق بالمال وتارۃ بالضمان علی ما بینا و سواء عملا جمیعا أو عمل أحدھما دون الآخر فالربح بینھما یکون علی الشرط الخ (کتاب الشرکۃ، ج: 6، ص: 62 ط: ایچ ایم سعید)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0