سوال : میں ایک سرکاری ملازم ہوں، میری تنخواہ کی سلپ پر Interest Applied لکھا ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ میرے جنرل پراویڈنٹ فنڈ یعنی جی پی فنڈ پر سود مل رہا ہے، جو اکھٹا ہوتا رہتا ہے، اور ریٹائرمنٹ پر ملے گا، اس کو بند کروانے کے لئے مجھے اکاؤنٹ آفس میں ایک اسٹام لکھ کر جمع کروانے کا کہا گیا ہے، جس پر لکھا ہو کہ میں اپنے جی پی فنڈ پر سود نہیں لینا چاہتا اور پھر یہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا، کیا مجھے یہ بند کروانا چاہیے؟ کیا یہ حرام کا پیسہ ہے؟ اگر بند کروا دوں اور یہ معلوم کرنا ممکن نہ ہو کہ اب تک اس میں سود کتنا ہے اور اصل رقم کتنی ہے؟ تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ مزید یہ کہ لگایا تو گورنمنٹ نے ہے، لیکن اس کو بند کروانے کا اختیار بندہ کے پاس ہے کہ وہ بند کروا سکتا ہے؟ اس صورت میں کیا حکم ہے ؟کیا بند کروانا چاہیے؟ اور جو چند سال پہلے کا سود لگ چکا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں۔ (1) جبری (2) اختیاری
1: جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ وہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہذا ملازم کے لیے ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔
2: جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیتِ ثواب صدقہ کر دیا جائے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر جی پی فنڈ کے لئے کی جانے والی کٹوتی کو بند کروانے کا اختیار رکھتا ہو تو وہ اسے فوراً بند کروا دے، تاکہ آئندہ کسی قسم کے سودی معاملہ میں اس کا حصہ شامل نہ ہو اور ریٹائرمنٹ پر جس قدر سودی رقم اس کے جی پی فنڈ میں شامل ہو اس کو وصول ہی نہ کرے اور اگر وصول کرنا مجبوری ہو تو وصولی کے بعد اس قدر رقم بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
کما فی بدائع الصنائع : (و أما) الذي يرجع إلى نفس القرض : فهو أن لا يكون فيه جر منفعة ، فإن كان لم يجز ، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة ، على أن يرد عليه صحاحا ، أو أقرضه و شرط شرطا له فيه منفعة ؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - أنه « نهى عن قرض جر نفعا » ؛ و لأن الزيادة المشروطة تشبه الربا ؛ لأنها فضل لا يقابله عوض و التحرز عن حقيقة الربا ، و عن شبهة الربا واجب ۔ اھ (کتاب القرض ، ج: 7 ، ص: 395 ، ط: سعید)ـ
وفی البحر الرائق : (قوله: بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لايملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة، والمراد أنه لايستحقها المؤجر إلا بذلك، كما أشار إليه القدوري في مختصره، لأنها لو كانت دينًا لايقال: إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها، فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه، وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط. لكن ليس له بيعها قبل قبضها اھ (کتاب الاجارۃ ، ج: 7 ، ص: 300 ، ط: ماجدیۃ)ـ
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1