السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ! میں ایک نجی کمپنی میں کام کر رہا ہوں۔ یہاں CPF (یعنی پروویڈنٹ فنڈ) کا نظام اختیاری ہے۔ اگر میں CPF اکاؤنٹ کھولتا ہوں تو کمپنی میری بنیادی تنخواہ کا 10٪ ماہانہ کاٹ لے گی، اور کمپنی بھی اتنی ہی رقم ماہانہ جمع کرے گی۔ ملازمت چھوڑنے کے بعد یہ پوری رقم (سود سمیت یا سود کے بغیر) نکلوائی جا سکتی ہے۔
اگر میں CPF میں سرمایہ کاری نہیں کرتا، کیونکہ یہ فنڈ عمومی طور پر سودی بنیاد پر چلتا ہے، چاہے میں سود لوں یا نہ لوں، تو ایسی صورت میں کمپنی بھی اپنی طرف سے کوئی رقم جمع نہیں کرے گی، اور یوں مجھے وہ اضافی 10٪ رقم نہیں ملے گی جو ملازمت چھوڑنے کے بعد مجھے مل سکتی تھی، اگر میں CPF میں سرمایہ کاری کرتا۔
محکمہ کی طرف سے پراویڈنٹ فنڈ کے نام پر ہر ماہ ملازم کی تنخواہ سے جو رقم کاٹی جاتی ہے، اس کی دو صورتیں ہیں۔
( 1 ) وہ رقم جبراً کاٹی جاتی ہے، یعنی محکمہ کی طرف سے یہ قانوناً لازم ہوتا ہے، ملازم کو اس میں کسی بھی قسم کا اختیار نہیں دیا جاتا۔
( 2 ) یہ رقم ملازم کے اختیار سے کاٹی جاتی ہے کہ اگر وہ چاہے ،تو اپنی پوری تنخواہ وصول کرے، اور محکمہ کو پراویڈنٹ فنڈ کے لیے تنخواہ سے کٹوتی کرنے کی اجازت نہ دے۔ بہرصورت محکمہ کٹوتی کے بقدر اس میں رقم شامل کرکے بینک میں رکھوا لیتا ہے، اور بینک اس پر انٹرسٹ دیتا ہے، اور پھر تینوں رقوم کا مجموعہ ملازمت کے اختتام پر ملازم کو اپنی اصل رقم کے ساتھ دیدیا جاتا ہے۔
اب چاہے مذکور فنڈ جبری ہو یا اختیاری، دونوں صورتوں میں اضافی رقم سود کے زمرے میں نہیں آتی، مگر جس صورت میں ملازم کے اختیار سے پراویڈنٹ فنڈ کے لیے رقم جمع کی جائے ،تو اس صورت میں ملازم کی رضامندی کی وجہ سے اضافی رقم میں سود ہونے کا شبہ پیدا ہو جاتا ہے ،اور جس مال کے اندر سود کا شبہ ہو، شرعاً اس سے بھی احتراز لازم ہے، اس لیے پراویڈنٹ فنڈ کے اختیاری ہونے کی صورت میں بینک کی طرف سے ملنے والی اضافی رقم میں سود کے خدشہ کی وجہ سے ملازم کو اس اضافی رقم کے لینے سے اجتناب کرنا چاہیے، یا محکمہ سے وصول ہی نہ کرے، یا پھر وصول کرنے کے بعد فقراء پر صدقہ کردے۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0