مسئلہ یہ ہےکہ میرے چارچچااور والد صاحب بھی زندہ ہیں، ان کے درمیان باقاعدہ عقد شرکت نہیں ہوئی ہے ،کھاناپینا ایک ساتھ کرتے تھے جب میں بڑاہوگیا،کام کاج کاہوگیا اس سے پہلے ان کا کوئی سرمایہ نهیں تھا ،اس کے بعد میں بھی کماتاتھاہمارے چچااور والد صاحب بھی کماتےتھے، ہرایک کے الگ کاروبار تھے، میں بھی کبھی الگ کام کرتاکبھی چچا کےساتھ ، والد صاحب کے ساتھ میں نے کام نہیں کیاہے، نہ اس کے سرمایہ سے کیاہے، اسی حالت میں ہم نے چند سال کے بعد ایک زمین خریدی،جس میں میراپیسہ بھی شامل ہے، چچااوروالد سب کے بھی، اب اس زمین کے تقسیم میں میرا حق ہے یانہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل اگر اپنے والد کے گھر میں رہائش پذیر ہو اور اسی کے ساتھ کھاتا پیتا ہو،اور اسی دوران اس نے اپنے ذاتی کاروبار و مزدوری کی آمدنی قرض وغیرہ کی صراحت کیے بغیر اپنے والد کو دیدی ہو جیسا کہ عام طور پر خاندان کے افراد کما کر اپنے والد کو دیتے ہیں،اور سائل کے والد نے اس رقم کو اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ مذکورہ زمین کے خرید نے میں لگادی ہو، تو ایسی صورت میں مذکورہ زمین میں سائل کا الگ سے کوئی حصہ نہ ہوگا،بلکہ یہ سائل کی طرف سے والد کے ساتھ تعاون شمار ہوگا اور یہ زمین سائل کے والد اور چچاؤں کے درمیان ان کے شامل کردہ رقم کے تناسب سے تقسیم ہوگی، البتہ اگر مذکورہ زمین خریدتے وقت سائل نےوہ رقم اپنے والد یا چچا کو قرض کی صراحت کے ساتھ دی ہو،یا سائل کیلئے ان کی جانب سے علیحدہ کوئی حصہ مقرر کیا گیا ہو تو پھر وہ اسی معاہدہ کے مطابق شرعاًاس کا مستحق ہوگا۔
کمافی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: ( سئل ) فی إخوۃ خمسۃ تلقوا ترکۃ أبیھم فأخذا فی الاکتساب والعمل فیھا جملۃ کل علی قدر استطاعۃ فی مدۃ معلومۃ وحصل ربح فی المدۃ ورد علی الشرکۃ غرامۃ دفعوھا من المال فھل تکون الشرکۃ وما حصلوھا بالاکتساب بینھم سویۃ وان اختلفوا فی العمل والرأی کثرۃ وصوابا ( الجواب ) نعم إذا کل واحد منھم یعمل لنفسہ وإخوتہ علی وجہ الشرکۃ وأجاب الخیر الرملی بقولہ ھو بینھما سویۃ حیث لا یمیز کسب ھذا من ھذا ولایختص أحدھما بہ ولا زیادۃ ولی الآخر إذا التفاوت ساقط إلخ( کتاب الشرکۃ ومطالبہ، ج: 2، ص: 93، ط: حقانیۃ )
و فی شرح المجلۃ: قال فی الفتاوی الخیریۃ: قول علمائنا "أب و ابن یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ و لم یکن لھما شئ ثم اجتع لھما قال یکون کلہ للأب إذا کان الإبن فی عیالہ" (إلی قولہ) أنہ لو لم یکن للأب عمل و لاکسب بل العمل و الکسب للإبن یکون المال المتحصل للإبن خاصۃ لأن الأب حینئذ فی عیال ابنہ و ھو ظاھر۔إلخ۔( شرح المجلۃ لخالد الأتاسی، الباب السابع فی شرکۃ العقد تحت المادۃ 1398،ج:4، ص: 320، ط: مکتبہ إسلامیۃ )۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0