السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک پرائیویٹ کمپنی ہے جو اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار کرتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ پیسہ جمع کرو مثال کے طور پر 400 روپے جمع کیا ہے اس پہ روزانہ 45 روپے مل رہے ہیں چار مہینے تک کے لئے، اور ان کا جو منافع آتا ہے 10 پرسنٹ وہ کچھ ہمیں دیتے ہیں، کچھ وہ لوگ رکھتے ہیں جو کمپنی ہی پرائیویٹ ہے اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار کرتی ہے، تو کیا یہ منافع جائز ہے یا ناجائز ؟
واضح ہو کہ کسی بھی کاروباری پارٹنرشپ(چاہے شرکت ہو یا مضاربت )میں منافع کی تقسیم کے لئےرقم کی تعیین شرعاً درست نہیں،لہذا سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق مذکور ،معاملہ میں چونکہ یومیہ منافعہ45 روپے متعین ہےاس لئے یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں اس سے احتراز چاہئے۔البتہ اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز اور درست ہےشیئرز کی خرید و فروخت ، خواہ اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ہو یا کسی دوسری کمپنی اور بینک کے ذریعہ ہو ، اگر درجِ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جائے تو اس صورت میں یہ بلاشبہ جائز ، اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز اور حلال ہے ، وہ شرائط یہ ہیں :
۱ جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں ،اس کا اصل کاروبار حلال ہو۔
۲ اس کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثے (Fixd Assets) بھی وجود میں آچکے ہوں ، یعنی صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں ، ورنہ فیس ویلیو (Face Value) کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید و فروخت جائز ہوگی۔
۳ ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو ، بلکہ آمدنی سے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو۔
۴نفع و نقصان دونوں میں شراکت ہو۔
۵ اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے ، تو اس کی سالانہ میٹنگ (A.G.M) میں سود کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔
۶ جب منافع تقسیم ہوں ، تو دیکھ لیا جائے کہ نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو ، اس کو بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کردے۔
یہ تب ہےکہ جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا ، اور گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ہو۔
لیکن اگر مقصد کیپٹل گین ہو ، یعنی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ کا امکان ہو تو اس کمپنی کے شیئرز خرید کر پھر چند روز بعد جب قیمت بڑھ جائے ،تو انکو فروخت کرکے نفع حاصل کرنامقصود ہو ، تو مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ اس معاملے کی بھی شرعاً گنجائش ہے۔
تاہم اس کو درست کہنے میں دشواری ’’سٹہ بازی‘‘ کے وقت پیش آ تی ہے ، جو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے ، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا ، بلکہ آخر میں جاکر آپس کا فرق (ڈیفرنس) برابر کرلیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیشِ نظر ہوتا ہے ، لہٰذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو ، اور نہ ہی لینا دینا مقصود ہو ، بلکہ اصل مقصد سٹہ بازی کرکے ڈیفرنس کو برابر کرلینا ہو ، تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔
اسی طرح بعض اوقات شیئرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی ان کو آگے فروخت کردیا جاتا ہے ، اس کی بھی شریعت میں اجازت نہیں ہے ، کیونکہ شیئرز پر قبضہ ضروری ہے اور شیئرز کا قبضہ یہ ہے کہ شیئرز ہولڈر اس کے نفع و نقصان کا حقدار بن جائے ، جس کو ”رِسک “ میں آ نے سے تعبیر کیا جاتا ہے ، تو یہ قبضہ سمجھاجاۓ گا اور آ گے فروخت کرنا جائز ہوگا ، ورنہ جائز نہیں ہوگا ۔
کما فی فتح القدیر:قال رسول اﷲ ﷺ لا تبیعن شیئًا حتی تقبضہ۔(فتح القدیر: ج۶، ص۱۳۶)
وفی البدائع الصنائع: ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.
(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.(ج:6،ص:59،مط:ایچ ایم سعید)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0