سوال نمبر۱۔ کیا قربانی کے جانور کے کپورے، اوجھڑی، زبان اور کلیجی حلال ہے یا مکروہ؟
سوال نمبر۲۔ میرا چھوٹا بھائی جو کہ غیر شادی شدہ ہے اور عمر تقریبا 33سال ہے اور صاحب استظاعت ہے تو اگر وہ قربانی کرلے اور ہم اس کا نام ظاہر نہ کریں ۔اور کسی اور رشتہ دار کو اسی کے حصے کا رقم ادا کرے کہ وہ قربانی اسکے نام پر کرلیں۔تو یہ قربانی ادا ہوگی یا نہیں۔کیونکہ نام ہم دالد صاحب کی ڈر کی وجہ سے ظاہر نہیں کرتے۔
(1) واضح ہوکہ حلال جانور کے سات اعضاء حرام ہیں، وہ سات اعضاء درج ہیں: (۱) بہتا ہوا خون (۲) نر جانور کی پیشاب گاہ (۳) مادہ جانور کی پیشاب گاہ (۴) کپورے (۵) مثانہ (۶) پتہ (۷) غدود۔اس کے علاوہ حلال جانورکی اوجھڑی،زبان،کلیجی سمیت تمام اعضاء حلال ہیں۔
(2)جو شخص نصاب کا مالک ہو، اس پر واجب ہے کہ وہ اپنی طرف سے قربانی کرے، البتہ اگر اس کی اجازت اور رضامندی سے کوئی اور اس کی طرف سے قربانی کرلے تو قربانی صحیح ہو جائے گی، لیکن اگر اس کی اجازت کے بغیر قربانی کی گئی تو اس کی طرف سے قربانی کا واجب ادا نہیں ہوگا، لہذاصورت مسؤلہ میں سائل کےلیے صاحب نصاب بھائی کی اجازت کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کرنے سے قربانی صحیح نہیں ہوگی اور اس کا واجب بھی ادا نہیں ہوگا، اوراگر اس کی اجازت اورمرضی سے قربانی کی جائے (اگرچہ وہ والدسے چھپ کرہی کیوں ناہو) تو بلاشبہہ اس کی قربانی درست ہو جائے گی ،اوراسی کااہتمام چاہیے۔