بسم الله الرحمن الرحيم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے میں علماءِ کرام و مفتیانِ دینِ اسلام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی بینک سے کوئی چیز ( گاڑی، گھر وغیرہ ) قسطوں پر خریدی جائے اور بینک کی مقرّر شدہ اقساط کو اگر بر وقت ادا کر دیا جائے تو بینک کے دعوے کے مطابق اس پر سود نہیں لگتا۔ جیسا کہ آج کل یہ صورت بینکوں میں رائج ہے کہ بینک 10 لاکھ کی چیز کی قیمت قسطوں پر دینے کی صورت میں 12 لاکھ بتلاتے ہیں اور اس کو بیع اور شراء کا نام دیتے ہیں ۔ اور مقرّرہ وقت میں اقساط کی عدم ادائیگی کی صورت میں بینک سود لیتا ہے ۔ اب برائے کرم شریعت کی روشنی میں فرمائیں کہ بینک کا صورتِ مذکورہ کو بیع اور شراء کا نام دینا درست ہے یا نہیں ؟ نیز میزان بینک کا دعویٰ ہے کہ ان کی بینکاری اسلامی اصولوں کے مطابق ہے تو برائے کرم میزان بینک اور دوسرے بینکوں کی بینکاری میں جواز اور عدمِ جواز کے اعتبار سے فرق دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں واضح فرمائیں ۔ اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔ امين!
صورتِ مسئولہ میں مذکور شرط پر خرید و فروخت کا معاملہ تو شرعاً جائز نہیں، البتہ قسطوں پر خرید و فروخت کا معاملہ جائز طریقہ پر بھی ممکن ہے ، وہ اس طرح کہ مجلسِ عقد میں نقد اور ادھار کی قیمت کا تذکرہ کرنے کے بعد اسی مجلس میں کسی ایک قیمت کا فیصلہ کر لیا جائے ، اب اگر ادھار لینا ہی مقصود ہو تو اسی مجلس میں ادھار کی قیمت طے کرنے کے بعد اس کی کل قسطیں بھی متعین کر لی جائیں اور ہر قسط میں رقم کی مقدار بھی طے کر لی جائے اور پھر مقرّرہ وقت پر قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں مقرّرہ قسط کی رقم میں مزید اضافہ بھی نہ کیا جائے ، ان شرائط کیساتھ جو معاملہ کیا جائیگا تو وہ شرعاً جائز ہوگا ، اور قسطوار مال فروخت کرنے میں ادھار کی وجہ سے جو زائد رقم دینی پڑتی ہے، وہ سود بھی نہیں ۔
البتہ میزان بینک کے کئی ایک معاملات اگرچہ بحمد الله شرعی نقطۂ نظر کے موافق بھی ہیں، مگر یہ ایک پرائیویٹ ادارہ ہے اور ملکی حالات کی وجہ سے اس قسم کے ادارے بھی متاثر ہو جاتے ہیں، اس بینک کے ذریعہ سرمایہ کاری کرنے کا جب ارادہ ہو تو اس وقت خاص اس اسکیم کے تحت سرمایہ کاری کے اصول اور ضوابط معلوم کر کے اس کا حکمِ شرعی بھی معلوم کر لیا جائے تو یہ زیادہ محتاط اور بہتر ہے ۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شھر بكذا أو إلى شھرين بكذا فھو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنھي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النھي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينھما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنھما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 8)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1