کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک لڑکی سے شادی کی خواہش رکھتا ہوں جوکہ طلاق یافتہ ہے،اور اس کی پہلے شوہر سے ایک بیٹی ہے ،جو اسے چھوڑ کر جاچکا ہے ،بچی کی عمر چار سال ہے،یہ میری پہلی اور لڑکی کی دوسری شادی ہوگی،وہ کہہ رہی ہے کہ اس کی بیٹی میرے لئے نامحرم ہوگی کیونکہ میں اس کا حقیقی والد نہیں ہوں،البتہ میں اس کی اور اسکی بیٹی کی پوری ذمہ داری اٹھانے کا خواہش مند ہوں اور چاہتاہوں کہ اسکی بہتر زندگی کیلئے اسکی بیٹی کو باپ جیسا پیار دے سکوں،تو کیا اس بچی کا میرے سے پردہ ہوگا یا میں اس کے ساتھ اپنی بیٹی کی طرح رہ سکتاہوں ؟اور اگر نہیں تو اس کا کیا طریقہ کار ہوگا؟کس حد تک اس سے دوری بنانی چاہیئے؟کیا وہ بچی میرے لئے محرم کہلائے گی یا نامحرم؟کیونکہ میں اس بچی کو پیدائش سے جانتا ہوں،اور بطور والد اس سے بے انتہا ء محبت کرتا ہوں،اور چاہتاہوں کہ پیار اور خلوص کے ساتھ اس بچی اور اس کی ماں کو بہتر زندگی دے سکوں،میری نیت بالکل پاک ہے،جس کا اس خاتون کو بھی پتہ ہے،اور مجھ پر بھروسہ بھی ہے،میں غیر شادی شدہ ہوں میری پہلے شادی نہیں ہوئی،میں قران اور سنت کی روشنی میں جواب کا منتظر ہوں۔
سائل نے مذکور عورت کی بیٹی کیلئے جس نیک نیتی اور باپ کی شفقت و محرومی دور کرنے کا اظہار کیا ہے وہ قابل تحسین ہے،امید ہے اللہ تعالی سائل کو اس نیت و ارادہ پر اجر و ثواب عطاء فرمائیں گے،البتہ اس کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ سائل اور مذکور عورت کے درمیان نکاح کے بعد ہمبستری ہوجانے کی صورت میں سائل اور مذکور بچی ایک دوسرے کے حق میں محرم کہلائیں گے،ایسی صورت میں بلوغت کے بعد مذکور بچی پر سائل سے پردہ کرنا تو لازم نہ ہوگا،لیکن سائل اور مذکور بچی کا اس قدرقرب اختیار کرنا کہ کسی فتنہ اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو ،درست نہیں ہوگا،لہذا اس معاملہ میں احتیاط لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع:وأما الفرقة الثانية: فبنت الزوجة وبناتها وبنات بناتها وبنيها وإن سفلن.أما بنت زوجته فتحرم عليه بنص الكتاب العزيز إذا كان دخل بزوجته فإن لم يكن دخل بها فلا تحرم لقوله: ﴿وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن فإن لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح عليكم﴾ [النساء: ٢٣] وسواء كانت بنت زوجته في حجره أو لا عند عامة العلماء.(کتاب النکاح،فصل المحرمات بالمصاهرة بنت الزوجة وبناتها وإن سفلن ،ج:2،ص:259)
و فی مختصر القدوری:ولا يحل للرجل أن يتزوج بأمه ولا بجداته من قبل الرجال والنساء ولا ببنته ولا ببنت ولده وإن سفلت ولا بأخته ولا ببنات أخته ولا ببنات أخيه ولا بعمته وال بخالته ولا بأم دخل بابنتها أو لم يدخل ولا ببنت امرأته التي دخل بها سواء كانت في حجره أو في حجر غيره (کتاب النکاح،ص:145)