شرکت و مضاربت

حکومتی ٹینڈر میں شرکت کیلئے لوگوں سے سرمایہ لینے کا حکم

فتوی نمبر :
82298
| تاریخ :
2025-04-25
معاملات / مالی معاوضات / شرکت و مضاربت

حکومتی ٹینڈر میں شرکت کیلئے لوگوں سے سرمایہ لینے کا حکم

محترم مفتی صاحب: السلام علیکم
ہماری کمپنی میڈیکل کے شعبے سے متعلق مشینوں کا کاروبار کرتی ہے۔کمپنی کے پاس مختلف بین الاقوامی کمپنیوں کی ڈیلر شپ ہے۔کمپنی مختلف حکومتی ٹینڈرز میں شرکت کرتی ہے۔ کسی ٹینڈر میں شرکت کرنے کے لئے طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے ایک متعین رقم (آرڈر کی کل مالیت کا 2 یا 1 فیصد) بطور سیکیورٹی(Bid Security or Earnest Money) کے حکومتی ادارے کو جمع کروائی جاتی ہے۔اس رقم کا بینک کے ذریعے متعلقہ ادارے کے نام پے آرڈریا سی ڈی آر وغیرہ بنوایا جاتا ہے۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ میں آرڈر ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر آرڈر نہ ملے تو یہ رقم بعینہ واپس مل جاتی ہے۔ اگر آرڈر مل جائے تو جتنی مالیت کا آرڈر ملا ہے اس کا 5 فیصد پرفارمنس بانڈ کے طور پر جمع کروانے کے بعد سیکیورٹی کی یہ رقم واپس مل جاتی ہے۔پرفارمنس بانڈ کا مقصد سپلائی کی جانے والی چیز کی صلاحیت کی سیکیورٹی ہے۔اس کی مدت زیادہ سے زیادہ 5 سال ہوتی ہے۔ 5 سال تک اگر سپلائی کی ہوئی چیز مثلاً مشین درست کام کرتی رہے تو یہ رقم بھی مکمل واپس مل جاتی ہے۔
سپلائی کیا جانے والا مال بعض دفعہ تو سٹاک میں موجود ہوتا ہے ۔ بعض دفعہ کچھ سامان موجود ہوتا ہے اور کچھ امپورٹ کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ مکمل سامان امپورٹ کیا جاتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں ہماری کمپنی سامان کو خرید کر پھر حکومتی ادارے کو فروخت کرتی ہے جسے اصطلاح میں ”ایف او آر“ (یعنی سامان متعلقہ ادارے میں پہنچانا) کی بنیاد پر مال سپلائی کرنا کہا جاتا ہے۔
بعض دفعہ حکومت ٹینڈر اس طرح کرتی ہے کہ آپ سیکیورٹی ادا کر کے ٹینڈر میں شرکت کریں ۔ ریٹ دیں۔ اگر آپ کوآرڈر مل گیا تو حکومتی ادارہ بیرون ملک میں موجود کمپنی سے بذات خود سامان منگوائے گا۔ اور اس مقصد کے لئے ادارہ متعلقہ بین الاقوامی ادارے کے نام خود ایل سی کھلوائے گا۔مال کو خود امپورٹ کرے گا اور کمپنی کو بذات خود ادائیگی کرے گا۔ اس اقدام سے مقصد ٹیکس کی چھوٹ سے فائدہ اٹھانا ہے۔اس طرح ٹینڈر کرنے کو ”سی اینڈ ایف“ وغیرہ کی بنیاد پر ٹینڈر کرنا کہتے ہیں۔ پاکستان میں موجود ڈیلر (ہماری کمپنی ) کا کام ایسے ٹینڈر کی سپلائی میں یہ ہوتا ہے کہ یہ مال کی انسپیکشن کرتی ہے اسے انسٹال کرتی ہے، ٹریننگ دیتی ہے اور وارنٹی کو کور کرتی ہے۔ ہماری کمپنی(ڈیلر) کا بین الاقوامی کمپنی ( پرنسپل) سے ایک ریٹ طے ہوتا ہے یا موقع پر مزید بھاؤ تاؤ کیا جاتا ہے۔اس طے شدہ ریٹ سے زائد رقم جہاز کا کرایہ اور کسٹم ڈیوٹی وغیرہ نکال کر ہمارا نفع شمار ہوتی ہے جو کمپنی رقم وصول ہونے پر ہمیں بھجوا دیتی ہے یا کسی طرح ایڈجسٹ کر لیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ:
1۔ ہم بعض دفعہ کسی ٹینڈر میں شرکت کے لئے سیکیورٹی کی مد میں کسی سے سرمایہ لیتے ہیں جس کی بنیاد پر ہماری کمپنی ٹینڈر میں شرکت کرتی ہے۔ آرڈر نہ ملے تو یہ رقم بعینہ بغیر کسی نفع کے سرمایہ کار کو واپس کر دی جاتی ہے اور آرڈر مل جائے تو اسے نفع میں شریک کر لیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟
2۔ بعض دفعہ کسی سرمایہ کار سے یہ طے ہوتا ہے کہ آپ شرکت کے لئے سیکیورٹی بھی ادا کریں اور آرڈر ملنے پر 5 فیصد پرفارمنس بانڈ کی رقم بھی ادا کریں ۔ پرفارمنس بانڈ بنواتے ہوئے پہلے ادا شدہ سیکیورٹی کی رقم واپس مل جاتی ہے۔ ایسے سرمایہ کار کے ساتھ بھی یہ طے کرتے ہیں کہ اگر آرڈر نہ ملا تو بغیر کسی نفع کے آپ کی سیکیورٹی کی رقم واپس مل جائے گی اور اگر آرڈر مل گیا تو پہلی صورت کے مقابلے میں زائد نفع کے تناسب کے ساتھ ہم سرمایہ کار کو نفع میں شریک کر لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ نفع کا تناسب شروع ہی سے طے کیا جاتا ہے۔ پرفارمنس بانڈ کی رقم چونکہ ہماری کمپنی کو 5 سال بعد واپس ملتی ہے اس لئے ادارے سے رقم وصول ہونے پر ہم 5 فیصد ادا کی ہوئی پرفارمنس بانڈ کی رقم سرمایہ کار کو واپس کر دیتے ہیں۔ گویا کہ سرمایہ کار کو اصل رقم اور نفع 3 سے 4 ماہ میں واپس مل جاتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ اگر یہ صورتیں درست نہیں تو درست متبادل صورت کیا ہے؟
تنویر لقمان ،9427780-0321
عدنان کاشف، 4890019-0321

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے سوال میں جو دو صورتیں ذکر کی ہیں(پہلی صورت یہ کہ سرمایہ کار سے صرف سکیورٹی رقم کی مقدار میں سرمایہ لیا جاتا ہے، دوسری صورت یہ کہ سکیورٹی اور پرفارمنس دونوں کی رقم سرمایہ کار سے لی جاتی ہے) ان دونوں صورتوں میں آرڈر اگر مل جاتا ہے تو سرمایہ کار کو نفع میں شریک کر لیا جاتا ہے ورنہ اسے اس کا صرف سرمایہ واپس کردیا جاتا ہے) لیکن سائل نے یہ وضاحت نہیں کی کہ سرمایہ کار کو دیا جانے والا نفع کل حاصل شدہ منافع میں سے کوئی خاص فیصد مقرر کرکے دیا جاتا ہے یا سرمایہ کار کے سرمایہ کی رقم کو بنیاد بنا کر اس کا پرسنٹیج دیا جاتا ہے؟ اسی طرح اور بھی بہت ابہام پایا جاتا ہے، جس کی بنا پر ذیل میں اصولی ضابطہ ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ جو معاملات سرمایہ کار کے ساتھ اس ضابطہ کے مطابق کیے جائیں گے، وہ جائز ہوں گے۔
1۔ مذکور کمپنی اگر سرمایہ کار کے ساتھ عقدِ مضاربت (یعنی ایک کی طرف سے سرمایہ ہو اور دوسرے( کمپنی) کی طرف سے عمل، کاروباراور محنت ہو) کا معاملہ کرتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ کمپنی نے جو ڈیل کرنی ہے اس کی کل مدت کی بنیاد پر سرمایہ کار سے سرمایہ لے۔ مثلاً اگر ڈیل متوقع طور پر 10 ماہ میں مکمل ہونی ہو تو سرمایہ کار سے ایک سال کا معاہدہ کرے۔
2۔ دوسرا ضابطہ یہ ہے کہ سرمایہ کار کے سرمایہ کے تناسب سے جو کل منافع بنتے ہوں ان منافع میں سے اس کے لئے بطورِ منافع متعین فیصد مقرر کریں۔ ان دو بنیادی ضابطوں کا اگر لحاظ رکھا جائے تو معاملہ شرعاً درست ہو جائے گا، جب کہ بوقتِ ضرورت پیش آمدہ جزئی معاملات میں مفتیانِ کرام سے رابطہ کرکے ان کا حکمِ شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

(كتاب المضاربة)(وهو يشتمل على ثلاثة وعشرين بابا)
(الباب الأول في تفسيرها وركنها وشرائطها وحكمها)أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر (الی قولہ)(وأما) (ركنها) فالإيجاب والقبول وذلك بألفاظ تدل عليها من لفظ المضاربة والمقارضة والمعاملة وما يؤدي معاني هذه الألفاظ بأن يقول رب المال خذ هذا المال مضاربة على أن ما رزق الله أو أطعم الله تعالى منه من ربح فهو بيننا على كذا من نصف أو ربع أو ثلث أو غير ذلك من الأجزاء المعلومة(الی قولہ) وأما شرائطها الصحيحة فكثيرة كذا في النهاية. (منها) أن يكون الخ (کتاب المضاربۃ ج:4 ص:285 ط: دار الفکر ۔ بیروت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82298کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مشترکہ رقم سے ،کسی ایک شریک کا اپنے مہمان کو کھانا کھلانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروبار میں شرکت کا صحیح طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 7
  • مکان میں کسی کو شریک کرنے کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • شریک کے لیے تنخواہ مقررکرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 3
  • مضاربت کے مختلف مسائل

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • شریکین میں منافع کی تقسیم کا طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • معاضہ طے کئے بغیر کسی کے کاروبار میں محنت کرنے والے کا حصہ کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک ٹرم سرٹیفیکیٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • میزان ماہانہ مضاربہ منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت میں نقصان سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت کے اصول

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل کمپنیوں کی پالیسی لینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • اسمارٹ نامی کمپنی میں انویسمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   شرکت و مضاربت 0
  • وراثتی کاروبار سے کسی ایک وارث کی شرکت ختم کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • بلڈرز کے ساتھ انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
Related Topics متعلقه موضوعات