میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب نے پیدائش کے بعد مجھے میرے نانا نانی کے گھر امی اور بہن کے ساتھ چھوڑ دیا ، اس کے بعد نہ انہوں نے ہمارا خرچہ اٹھایا، نہ ہماری والدہ کا خرچہ اٹھایا، نہ تعلیم کا خرچہ اٹھایا، دو تین سال میں ایک دفعہ ملتے وہ ، اور کھانا کھلادیتے، اور ایک دو ہزار رکھ دیتے، اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا ، اور ایک دفعہ پچیس ہزار ادا کیے بس ، تو اس کے علاوہ میری شادی تک نہیں کی انہوں نے ، جبکہ ان کی گورنمنٹ جاب ہےتو ان کے باپ ہونے کا فرض پورا ہوگیا یا ان کو حساب دینا ہے دنیا و آخرت میں ؟یا مجھے کوئی حساب دینا ہے دنیا و آخرت میں؟ اور میں ان سے بات کرتی ہوں اپنا فرض ادا کرتی ہوں، لیکن وہ صرف میری بے عزتی کرتے ہیں دوسروں کے چکر میں ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے والد کا مذکور طرزِ عمل درست نہیں، بلکہ اپنے ذمے واجب حقوق کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سخت گناہ گار ہو رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز ِعمل سے باز آتے ہوئے بیوی بچوں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرے اور اگر سائلہ یا اس کی بہن کی ابھی تک شادی نہ ہوئی ہو تو کوئی مناسب اور اچھے دین دار لڑکے کا رشتہ مل جانے پر ان کی رخصتی کا اہتمام کرے، تاکہ ان کا مستقبل برباد نہ ہو، ورنہ اخروی مؤاخذہ سے سبکد وشی نہ ہوسکے گی۔
ففي شعب الإيمان: عن أبي سعيد، وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه، فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما، فإنما إثمه على أبيه " (11/ 137)
وفي الهندية: تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة. (544/1)