کیا فرماتے میں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے بینک میں ایک لاکھ روپے سود کے تھے اور اس نے وہ پیسے کسی غریب کو ہبہ کر دیے اور اس غریب نےوہ روپے عملاً وصول نہیں کیے تاکہ مزید بڑھ جائیں ۔ یا بڑھنے کی نیت نہیں کی تھی بلکہ اتفاقاً وصول نہیں کیے اور پانچ سال گزرنے کے بعد وہ پانچ لاکھ ہوئے ۔ تو دریافت طلب یہ بات ہے کہ کیا اس غریب شخص کے لئے (عملاً یا اتفاقا وصول نہ کرنے کی ہر دو صورتوں میں) ان پانچ لاکھ روپے کو وصول کر کے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس طرح فقط ہبہ شدہ ایک لاکھ روپے کو وصول کر سکتا ہے یا نہیں ؟ برائے مہربانی اس کا حل بتا کر ممنون فرمائیں۔
جاننا چاہیئے کہ اس قسم کی رقم کا مستحق وہ شخص ہوتا ہے جو واقعۃً مستحقِ زکوٰۃ ہو۔ اور شخصِ مذکور کے ظاہری عمل سے بخوبی معلوم ہو رہا ہے کہ وہ مستحقِ زکوٰۃ نہیں ۔ اس لئے رقم دینے والے شخص پر لازم ہے کہ وہ مذکور سودی رقم پوری نکال کر ثواب کی نیت کے بغیر کسی واقعی مستحق کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ یا کسی رفاہی ادارے وغیرہ میں واجب التملیک رقوم کی مد میں جمع کروا کر اُنہیں مستحقین پر خرچ کرنے کا وکیل بنا دے اور یہ کہ آئندہ کے لئے اس طرح کے سودی اکاؤنٹ کو بھی مکمل طور پر بند کر دے اور اب تک سودی اکاؤنٹ جاری رکھنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہوا ہے اس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار بھی کرے ۔
کما فی تنزیل العزیز:احل اللہ البیع وحرم الربوا(البقرۃ:275)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن جابر رضی اللہ عنہ قال : لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ،وقال: ھم سواء (6/51)۔
وفی الشامیۃ: والحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم ،والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ (5/99)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1