سود

انشورنس کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
81903
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / سود

انشورنس کا شرعی حکم

السلام علیکم و ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
گزارش ہےکہ انشورنس اسکیم (بیمہ پالیسی) کے متعلق اسلامی نقطہ نظر کی مندرجہ ذیل معلومات تفصیلاً عنایت فرمائیں اور فتاوی کی تفصیل عنایت فرمائیں۔
۱۔ انشورنس کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر (فقہ حنفیہ) کیا ہے؟ ۲- اگر بچوں کی تعلیم کے لئے تعلیمی پالیسی لی جائے تو کیا جائز ہے ؟ -۳- اگر کوئی کمپنی تعلیمی پالیسی کے سلسلے میں ہمیں یہ کہے کہ ایک خاص وقت تک فکس پریمیم( ّمقررہ رقم) نہ لے یعنی ہر سال مختلف رقم وصول کرلے اور اس یونٹ کی صورت میں منافع دے جو کم اور زیادہ ہوتا ہو (یعنی کاروبار میں لگا کر منافع دیتے ہیں) ۔
۴- اگر انشورنس مکمل نا جائز ہے تو ایک شخص جس نے انشورنس پالیسی لی ہے اور وہ اسے ختم کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی جتنی رقم لگا چکا ہے وہ واپس لے کر استعمال کر سکتا ہے؟
آپ سے گزارش ہے کہ اس کی مکمل معلومات کی کتاب ہو تو اس کا نام بھی لکھ دیں۔ اور جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ انشورنس کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر یہ ہے کہ حقیقت کے لحاظ سے انشورنس کا معاملہ ایک سودی کاروبار ہے جو بینک کے کاروبار کے مثل ہے، دونوں میں جو فرق ہے وہ شکل کا ہے، حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے جبکہ اس میں جوا اور قمار بھی پایا جاتا ہے ۔ کیونکہ بیمہ کی حقیقت جن حضرات کے پیش نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ بیمہ اور انشورنس میں دو طرح سے شریعت کا اصطلاحی ربا پایا جاتا ہے۔ ایک تو یہ کہ بیمہ کمپنی بیمہ داروں سے جو رقم وصول کرتی ہے وہ ضرورت مند وں کو سود پر دیتی ہے۔ دوسرے بیمہ داروں کو ان کی کلی اقساط کی ادائیگی پر جو رقم زائد بطور منافع دیتی ہے وہ سود ہوتی ہے ۔ کیونکہ بیمہ دار جو رقم بصورت اقساط جمع کرتا ہے وہ دین ہے اور دین میں اجل (میعاد) کے مقابلہ میں جو منافع بطور مشروط یا معروف دیا جائے وہ شرعی اور اصطلاحی ربا ہے، جس کی حرمت قرآن کریم، احادیثِ نبویہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ ( بیمہ زندگی، ص: ۵۴)
۲۔ تعلیمی بیمہ پالیسی لینا بھی شرعاً جائز نہیں۔
۳۔ اگر مضاربت کے شرعی قواعد کے مطابق ہو تو اس کی گنجائش ہے، مگر عموماً ان قوانین کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے اور اس میں سود اور قمار کی لعنت بھی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی اجازت نہیں۔
۴۔ جی ہاں! جتنا سرمایہ لگایا ہے وہ اصل سرمایہ لے کر اپنے استعمال میں لانا بلاشبہ جائز ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 81903کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات