کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اسٹیٹ لائف بیمہ پالیسی کے کاروبار کہ جس کی صورت یہ بتائی جاتی ہے کہ سالانہ 11200 یا 30000 یا 100000 (لاکھ) وغیرہ روپے پالیسی اسٹیٹ لائف کمپنی کو جمع کرائی جاتی ہے اور جس سے اسٹیٹ لائف کے حضرات کا روبار کرتے ہیں یا ان سے عمارت تعمیر کراتے ہیں اور سالانہ منافع جتنا بھی آئے وہ اپنے ممبر کو دیتے ہیں اور اس کے علاوہ مثلاً اگر لاکھ روپے پالیسی جمع کرائی ہے تو سات لاکھ پورے ہونے پر پانچ لاکھ بطور انشورنس کے علاوہ منافع پیسوں کے رہتے ہیں( ہلم جراَ۔) اور دریں اثناء اگر کسی شخص کی موت آجائے ( جس نے سالانہ لاکھ روپے جمع کرائے ہیں) تو اس کے لواحقین کو بیس (۲۰) لاکھ روپے دیے جاتے ہیں اور اگر ایکسیڈنٹ کی موت واقع ہو تو لواحقین کو چالیس لاکھ روپے دیے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس سے اس کے مستقبل کی حفاظت کرتے ہیں اور دیگر اقساط بھی اس کے ذمہ سے ساقط کی جاتی ہیں ۔ اب آپ حضرات قرآن و سنت کی روشنی میں راہمائی فرمائیں۔ نیز انشورنس کی دیگر صورتوں کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم تفصیلی جواب دیں۔
انشورنس جس کا معنی لغت میں یقین دہانی ہے ،چونکہ کمپنی انشورنس کرنے والے کو مستقبل کے خطرات سے حفاظت اور بعض نقصانات کی تلافی کا یقین دلاتی ہے، اس لئے اسے انشورنس کمپنی کہتے ہیں, انشورنس ایک معاملہ ہے جو انشورنس کے طالب اور انشورنس کمپنی کے درمیان ہوتا ہے، جس میں انشورنس کمپنی اپنے کسٹمرسے ایک معینہ رقم بالاقساط وصول کرتی ہے اور ایک معینہ مدت کے بعد وہ رقم اسے یا اس کے پسماندگان کو حسبِ شرائط واپس کر دیتی ہے اور ساتھ ہی مقررہ شرح فیصد کے حساب سے اصل رقم کیساتھ مزید رقم بطور سود دیتی ہے، انشورنس کمپنی کا مقصد اس رقم کے جمع کرنے سے یہ ہوتا ہے کہ اُسے وہ دوسرے لوگوں کو بطور قرض دے کر ان سے اعلیٰ شرح پر سود حاصل کرے یا کسی تجارت میں لگا کر یا کسی جائیداد کو خرید کر اس سے منافع حاصل کرے، لہٰذا اس حقیقت کے لحاظ سے انشورنس کا معاملہ ایک سودی کاروبار کا معاملہ ہوتا ہے، جو بینک کے کاروبار کے مثل ہے دونوں میں فرق صرف شکل کا ہے حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں، حقیقت میں اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ اس میں ربا کے ساتھ غرر بھی پایا جاتا ہے وہ اس طرح پر کہ ایک طرف سے تو ادائیگی متعین ہے دوسری طرف سے ادائیگی موہوم ہے جو قسطیں ادا کی گئی ہیں وہ رقم بھی مل سکتی ہے اور ا س سے زیادہ بھی مل سکتی ہے، اسی کو قمار کہتے ہیں، اس لئے مروّجہ انشورنس پالیسیاں چاہے ان کا تعلق زندگی سے ہو یا دیگر اشیاء سے ہو، ان میں شرکت سے منع کیا جاتا ہے، لہذا اس سے احتراز واجب ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: احل اللہ البیع وحرم الربوٰ (بعد آیۃ)یمحق اللہ الربوٰ ویربی الصدقات (البقرۃ: 275/276 الآیۃ)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن جابر رضی اللہ عنہ قال : لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ،وقال :ھم سواء(6/51)-
وفی الشامیۃ: ومن السحت مایؤخذ علیٰ کل مباح کملح(الیٰ قولہ)واصحاب معازف وقواد وکاھن ومقامر وواشمۃ وفروعہ کثیرۃ اھ(6/424)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1