کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید بکر کو کچھ رقم دینا چاہتا ہے کاروبار کے لئے کہ بکر کاروبار کرے اور منافع دونوں کے درمیان ہوگا۔ اس کا شرعاً کوئی حکم ہے اور کون سی صورت جائز ہے؟ اور کونسی ناجائز؟ مہربانی فرما کر قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں ۔
مذکور طریقہ سے ایک آدمی کی رقم اور دوسرے کی محنت ہو جبکہ منافع دونوں کے در میان آدھو آدھ یا کم و بیش حصوں کے اعتبار سے یا فیصد کے اعتبار متعین کر لیا جائے تو یہ صورت شرعاً مضاربت کہلاتی ہے۔ جو بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔ جبکہ یہ عقد شرائطِ فاسدہ لگانے سے فاسد بھی ہو جاتا ہے ۔
کمافی الشامیۃ: ھی عقد شرکۃ فی الربح بمال من جانب رب المال وعمل من جانب المضارب اھ(5/645)۔
وفیہ ایضاً: وکون الربح بینھما شائعاً اھ(5/648)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0