کیا فرماتے ہے علماء کرام اس مسئلہ میں کہ ایک عورت چھ ماہ کے حمل سے تھی کہ شوہر نے اُس کے ساتھ ہمبستری کر لی، جس سے عورت کی طبیعت خراب ہوگئی، ڈاکٹر کے پاس لے جانے پر معلوم ہوا کہ عورت کو مسلسل پانی آ رہا ہے، اور حمل کو ضائع کرنا پڑےگا، کیونکہ بچہ بھی انتہائی کمزور ہے، جس کا بچنا بھی مشکل ہے، جس پر تمام لوگوں مثلا بیوی اور اُس کے والدین اس کے علاوہ عورت کے سسر اور ساس کی رضامندی سے حمل کو ضائع کر دیا گیا، لیکن شوہر راضی نہ تھا بالآخر وہ بھی راضی ہو گیا، اب سوال یہ ہے کہ شوہر پر اس کے فعل کی وجہ سے بچہ ضائع ہونے کی صورت میں دیت آئے گی یا نہیں؟ اور اگر آئےگی تو کتنی ؟
صورت مسئولہ میں شوہر کے جماع سے بچے کا ضیاع نہیں ہوا، بلکہ بعد میں ڈاکٹر کو کہہ کر اس کو ضائع کروا دیا گیا ہے، اور اس میں بھی اسقاط سے قبل شوہر کے اذن کو شامل نہیں کیا گیا، اس لئے شوہر پر کچھ لازم نہیں، البتہ اس کی حرکت سے پانی جاری ہوا جو بعد میں جا کر بچے کے ضیاع کی صورت میں ظاہر ہوا ،اس پر لازم ہے کہ اپنی بے احتیاطی پر بصدق دل توبہ استغفار کرے۔
كما فى الفتاوى الهندية؛ إذا ضرب بطن امرأة حامل مسلمة أو كافرة فألقت جنينا ميتا حرا ذكرا كان أو أنثى فعلى عاقلته الغرة وهي عبد أو أمة أو فرس قيمته خمسمائة درهم اھ (6/ 34)۔
وفيها ايضا: وفي فتاوى النسفي سئل عن مختلعة وهي حامل احتالت لإسقاط العدة بإسقاط الولد قال إن أسقطت بفعلها وجبت عليها غرة ويكون ذلك للزوج كذا في المحيط اھ (6/ 35)۔ والله أعلم بالصواب!
بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟
یونیکوڈ حدود و قصاص 0