کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اشفاق احمد اور عمران گل پرمشتمل IMU پلاسٹک کے نام سے کام کر رہے ہیں ،جو کہ تقریباً جنوری 2007ء سے شروع ہوا، اس میں مندرجہ ذیل امور طے پائے ہیں، جو کہ ہم دونوں کیلئے قابل قبول ہیں اور جنوری 2007 ء سے نافذ العمل سمجھے جائینگے۔
۱:کمپنی کے کام کے دوران یا کمپنی کے کام کے علاوہ بھی ہم دونوں کا اجتماعی یا انفرادی جو بھی کھانا پینا وغیرہ کا (جو بھی کھانے پینے کی چیزیں ہیں) خرچہ ہو گا وہ کمپنی سے وصول ہوگا ۔
۲:کسی کے کام کے دوران گاڑیوں کے کرائے کا خرچہ بھی کمپنی سے وصول کیا جائے گا۔
۳: گاڑیوں کے ڈرائیور کا کھانا پینا اور کھانے پینے کے دوران جو اشخاص آجائیں ،اس کا خرچہ بھی کمپنی ادا کریگی ۔
۴:موبائل فون جو کہ کمپنی کا ہے، اور اس کا بل بھی کمپنی ہی ادا کر یگی۔ کاروبار کے علاوہ کے استعمال میں بھی لا سکتے ہیں اور اگر کوئی ہمارے ہی موبائل سے کسی سے بات کرنے کے لئے کہہ دے تو وہ کمپنی کا موبائل استعمال کر سکتا ہے۔
۵: مشترکہ کاروبار کے علاوہ الگ ذاتی کاروبار کے لئے بھی یہ موبائل استعمال کر سکتے ہیں،
(۲):عمران گل اور اشفاق احمد دونوں کے رقم ابھی تک مساوی ہیں، اور منافع آدھا آدھا تقسیم کرتے تھے، لیکن اب اشفاق احمد ہر ماہ ماہانہ منافع میں سے کچھ رقم کمپنی میں جمع کرتا رہا ،جو کہ تقریباً 95700 روپے تک پہنچ گئی، اور برابر ہر ماہ جمع کرتا رہتا ہے، اب وہ چاہتا ہے کہ اس اضافی رقم کا 70 فیصد منافع ہر ماہ لیتا رہوں اور باقی 30 فیصد کمپنی میں جمع کرونگا تو کیا یہ شرعاً صحیح ہے؟
(۳):اگر کوئی تیسرا فریق بھی کاروبار کیلئے رقم دے ،اور وہ ہمارے ساتھ کام وغیرہ نہ کرے، صرف رقم دے، تو ہم اسے ماہانہ منافع میں سے 50 فیصد یا 60 فیصد منافع دیں اور باقی رقم ہم لے لیں۔یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور اگر چو تھا فریق بھی شامل ہونا چاہے، اور دونوں کے کاروبار کیلئے رقم دینے کی ترتیب درجِ ذیل ہو تو ہم ان دونوں کو کس ترتیب سے منافع دینگے ؟ فریق نمبر1 کی دی ہوئی رقم مثلاً چار لاکھ روپے۔ فریق نمبر 2 کی دی ہوئی رقم مثلا ًدو لاکھ یا ایک لاکھ پچاس ہزار۔
باہمی رضا مندی سے طے شدہ مذکور شرائط اور تقسیم منافع کیسا تھ معاملہ شراکت شرعاً بھی جائز اور درست ہے، جبکہ کسی ایک شریک کا حصہ زائد ہونے کی صورت میں باہمی رضا مندی سے منافع کی تقسیم میں کمی بیشی کی بھی گنجائش ہے، اور اگر کوئی تیسرا یا چوتھا آدمی بھی بطورِ شراکت اس کارو بار میں رقم ملائے تو کسی بھی مخصوص فیصد پر ا سے شریک کیا جا سکتا ہے۔
كما في بدائع الصنائع: وأما شركة العنان فلا يراعي لها شرائط المفاوضة فلا يشترط فيها أهلية الكفالة حتى تصح ممن لا تصح كفالته من الصبي المأذون والعبد المأذون والمكاتب ولا المساواة بين رأسي المال فيجوز مع تفاضل الشريكين في رأس المال ومع أن يكون لأحدهما مال آخر (إلی قوله) ولا المساواة في الربح فيجوز متفاضلا ومتساويا لما قلنا اھ (6/ 62)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0