کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کو یہ معلوم ہوا کہ ایک آدمی کے پاس ایک کلو سونا ہے، اور وہ فروخت کرنا چاہتا ہے، زید نے بذریعہ فون عمرو کو اس بات کی اطلاع کی۔ عمرو نے اس آدمی سے رابطہ کر کے سات لاکھ میں معاملہ طے کر لیا ۔ اب زید نے عمرو کو کہا کہ پیمنٹ میں ادا کروں گا اور مال ( سونا ) ہم دونوں آپس میں آدھا آدھا تقسیم کر لیں گے۔ اس کے بعد دونوں نے مالک سے بطور نمونہ ایک سکہ چیک بھی کیا اور مطمئن ہو گئے۔ اس دوران عمرو کو معلوم ہوا کہ یہ بندہ پہلے بھی اس طرح دھوکہ دے چکا ہے اور یہ سکے کھوٹے ہیں۔ لیکن زید نے کہا کہ نہیں، بلکہ ہم پورا مال چیک کر کے لیں گے اور پھر پیمنٹ کریں گے۔ اس کے بعد زید اور عمرو دونوں سات لاکھ روپے لیکر مال وصول کرنے گئے، لیکن مالک نے یہ شرط رکھی تھی کہ میرے پاس مال وصول کرنے صرف ایک آدمی آئے گا۔ تو ایک حد تک ساتھ جانے کے بعد جب عمرو وہاں اکیلا جانے لگا تو زید نے اسے رقم ساتھ لیکر جانے سے منع کر دیا، مگر عمرو اعتماد اور اطمینان کا اظہار کر کے چلا گیا۔ جب عمرو وہاں چلا گیا تو اس شخص نے کہا کہ آپ بھی ہمارے اطمینان کیلئے رقم ہمیں چیک کراؤ ,کہیں یہ جعلی تو نہیں اور آپ مال لیکر چیک کر لو۔ دونوں چیک کرنے کیلئے چلتے رہے۔ اور اس سے کہا کہ اگر آپ کو مال پسند آیا تو لے لینا ورنہ چھوڑ دینا۔ یہ رات کا وقت تھا تو وہ شخص راستے پر چلتے چلتے ایک طرف ہو کر غائب ہو گیا، کافی تلاش و جستجو کے بعد بھی نہیں ملا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں یہ نقصان زید اور عمرو دونوں پر آئیگا یا صرف زید یا صرف عمرو پر ؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کر کے عند اللہ ماجور ہوں۔
نوٹ: واضح ہو کہ جب زید اور عمرو پیسے لے کر مال چیک کرنے کیلئے گئے تو حسبِ وعدہ مقررہ مقام تک جانے کیلئے عمرو اکیلا ان کے ساتھ چلا گیا تو وہاں پہنچ کر انہوں نے عمرو سے پیسے لیکر سونے کے نام سے وہ چیز اس کو پکڑا چلا گیا اس وقت ان کو پتہ نہیں چلا، بعد میں جب چیک کرایا تو وہ سونا نہیں، بلکہ پیتل نکلا، اور اس آدمی نے اپنے گھر کا جو ایڈریس دیا تھا، وہ بھی غلط ہے اور اس کا فون نمبر بھی بند ہے اور سم بھی کسی اور کے نام پر ہے اور وہ آدمی بھی دھوکہ باز ہے کئی مرتبہ پولیس نے اس کو پکڑ کر چھوڑا ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ نقصان کس پر آئے گا ؟ زید پر یا عمرو پر یا دونوں پر ؟
جب زید اور عمر دونوں مشترکہ طور پر اس سونے کے خریدار تھے، تو اب نقصان کی صورت میں نقصان بھی دونوں کے در میان برابر ہوگا۔ بشرطیکہ اس معاملہ میں عمرو کی طرف سے کسی قسم کی کوئی تعدی ، سستی اور لا پرواہی وغیرہ شامل نہ ہو۔
كما في شرح المجلة: الشريكان كل واحد منهما امين الآخر فمال المشتركة في يد كل واحد منهما في حكم الوديعة إذا تلف مال الشركة في يد واحد منهما بلا تعد ولا تقصير لا يكون ضامنا حصة شریکه اھ (۴/۲۷۴) ۔
وفي الدر المختار: (ويضمن بالتعدي) وهذا حكم الأمانات اھ (4/ 320) -
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0