کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ بندہ نے مکان کی خریداری کا ارادہ کیا، اور مکان بھی تلاش کر لیا ،مگر نقد رقم اس وقت دستیاب نہیں، اس لئے میں نے اپنے علاقہ کے ایک شخص سے بات کی کہ یہ مکان میں خریدنا چاہتا ہوں ،اس کی قیمت پانچ لاکھ ہے ،آپ مجھے یہ رقم دیدیں، میں خرید لوں گا، اور پھر آپ میرے اوپر قسطوں میں ساڑھے چھ لاکھ پر فروخت کر دینا میں قسطوار بیس ہزار رو پے دیتا رہوں گا ،چنانچہ اس نے مجھے دو لاکھ روپے دیدیے اور میں نے بطورِ بیعانہ وہ رقم مکان کی مد میں دیدیے ،اور باقی تین لاکھ کیلئے ہفتے کا وقت لے لیا، مگر وقتِ موجود تک اس بقیہ رقم کا انتظام نہ ہو سکا ،تو مالک مکان نے اپنا مکان آگے فروخت کر دیا اور بیعانہ سوخت ہو گیا ، لیکن میرے پاس وہ دو لاکھ بھی نہیں تھے کہ میں متعلقہ شخص کو دیتا اس لئے اس نے اس دو لاکھ رقم کو مکان کی مد میں سمجھنے کی وجہ سے قسطو ارنفع کیساتھ حساب کرنا شروع کر دیا اور سود در سود آٹھ لاکھ تک پہنچا دیا، اور ایک موقع پر میں نے آٹھ لاکھ کا اقرار بھی کیا کہ اس کا میرے ذمہ اتنا قرضہ ہے،اس تفصیل کی روشنی میں معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکور شخص کا مکان دلائے بغیر مجھ سے قسطوار منافع کیساتھ رقم کا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟ نیز میرے مذکور اقرار سے شرعاً مجھ پر کچھ لازم ہو گا یا نہیں ؟ مہر بانی فرما کر حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہو کہ سائل نے مذکور مکان کی خریداری کیلئے متعلقہ شخص سے دو لاکھ روپے لیکر بیعانہ کے طور پر دیے ہوں ،اور باقی دینے اور سائل کے ساتھ باضابطہ جدید معاملہ کرنے کی نوبت نہ آئی ہو تو مذکور شخص کا اپنی دی ہوئی رقم کے عوض قسطوں پر مزید رقم کا مطالبہ کرنا شرعاًسود کے زمرے میں آتا ہے، جس کا لین دین شرعا ناجائز اور حرام ہے، جبکہ سائل کے اقرار سے بھی یہ اضافہ جائز اور لازم نہیں ہوگا - اس لئے شخصِ مذکور پر لازم ہے کر اپنے مذکور ناجائز اور غلط مطالبہ سے احتراز کرے۔
كما في إعلاء السنن: عن على أمير المومنين مرفوعاً كل فرض جر نفعا فهو ربا: الحدیث قال التهانويؒ تحت هذا الحديث: وبالجملة محرمة الزيادة المشروطة مجمع عليها لاخلاف فيه من أحد لكونها منفعة قد جرها القرض اھ (۱۴/ ۳۹۸)۔
وفي الدر المختار: (أقر) رجل بمال في صك وأشهد عليه به (ثم ادعى أن بعض هذا المال) المقر به (قرض وبعضه ربا عليه) (فإن أقام على ذلك بينة تقبل) وإن كان متناقضا (5/ 625) والله والله اعلم بالصواب!
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1