درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں مفتیانِ کرام کی کیا رائے ہے کہ:
ایک غیر ملکی کمپنی جو کہ سونے کا کاروبار کرتی ہے ،اور اپنے کاروبار کو پھیلانے کے لئے یہ طریقہ کار اختیار کرتی ہے کہ ہر بندہ کمپنی کے ساتھ کاروبار کر سکتا ہے، جس کے مطابق ہر نئے آنے والے بندے کو 5000 روپے ادا کرنے ہونگے، جس پر کمپنی اس کو ممبر شپ کارڈ جاری کرتی ہے، جس کے بعد اُس بندے پر فرض ہے کہ وہ مزید دو بندے لائے ،اور وہ بھی 5000, 5000 ادا کریں گے, جس پر کمپنی پہلے بندے کو 2500 فی دو بندوں کے آنے پر دیتی ہے،اسی طرح اگر ان دو بندوں نے بھی دو دو بندے لائے ،تو کمپنی اُن دو بندوں کو 2500 ، 2500 اور پہلے بندے کو 5000 روپے ادا کرتی ہے ،اور یہ سلسلہ اسی طرح بڑھتا چلا جاتا ہے، ہر دو بندوں کے آنے پر کمپنی 2500 روپے دیتی ہے، اور اگر پہلے بندے کے بعد بندے آتے گئے ،تو ایک اصول کے تحت کمپنی کچھ رقم اس بندے کے جمع کرتی ہے، اور پھر ایک مقرر کردہ قیمت جمع کرنے پر اس بندے کو اُسی قیمت کے سونے کا سکہ یا سونے کی کوئی بھی چیز دیتی ہے ۔
مختصراً کمپنی بندوں کے آنے پر پیسے دیتی ہے، جتنے بندے بڑھتے جاتے ہیں ،اور پہلے سے موجود تمام افراد کو پیسے کے ساتھ ساتھ سونے سے بنی مخصوص اشیاء بھی اُن ہی کے پیسے جمع کر کے دیتی ہے یعنی بندوں سے پیسے لے کر ایک مخصوص طریقہ کار کے ذریعے بندوں میں تقسیم کرتی ہے، اور ساتھ ساتھ سونے کی چیزیں بھی دیتی ہے۔
گزارش ہے کہ درجِ بالا مسئلے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اگر یہ حرام ہے ،تو کس بنیاد پر اور حلال ہو سکتا ہے تو کیسے؟
سوال میں تحریر کردہ مذکور غیر ملکی کمپنی کے طریقہ کار پر غور کیا گیا ہے،آج کل اس نوعیت کا کاروبار کرنے والی بہت سی ایسی کمپنیاں وجود میں آئی ہیں ،جو کم قیمت کی چیز مہنگے دام میں فروخت کرتی ہیں، اور ساتھ ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں، لوگ کمیشن کے لالچ میں آکر کم قیمت کی. چیز مہنگے داموں میں خرید لیتے ہیں،جو شرعا ًقمار یعنی جوئے ہی کی ایک شکل ہے، چنانچہ ایسی کمپنی کی مصنوعات اگر عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہیں، تو یہ کاروبار بھی نا جائز ہے، اور اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کمپنی کی مصنوعات مارکیٹ میں نہیں ہیں ،تو اس چیز کو عام مارکیٹ میں فروخت کرے ،لوگ جس قیمت پر خریدنے کیلئے تیار ہوں، وہ اس کی بازاری قیمت ہے، اب اگر کمپنی کی قیمت پر لوگ خریدنے کیلئے تیار ہیں ،تو اس کی بازاری قیمت کے برابر ہے،اور اگر لوگ اس قیمت پر خریدنے کیلئے تیار نہیں ہیں، تو یہ علامت ہے کہ اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے، اور زیادہ قیمت داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ اگر یہ شخص ممبر بنانے میں کامیاب ہو گیا ،تو ٹھیک ہے، اور اگر ممبر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا ،تو اس صورت میں اس کی زائد رقم ڈوب جائیگی ، لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابر ہوں، یا بہت معمولی فرق ہو تو بھی اس کمپنی کے طریقہ کار میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں :
۱:یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ کمپنی کا اصل مقصد کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہی ہوتا ہے، محض حیلہ ہے،جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص بغیر ممبر بنے اس کمپنی کی مصنوعات کو خریدنا چاہے، اور اس زنجیر میں شامل نہ ہو تو کمپنی اس کو یہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی۔
۲:کسی شخص کا کمپنی کے طریقہ کار میں کمیشن کا حقدار بننے کیلئے دونوں طرف ممبر بنانا شرط ہے ،چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبر بنائے ،اور دوسری طرف نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے ،تو اس کو اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا ، شرعی اعتبار سے یہ شرط لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بے کار جاتی ہے، اور اس کا صلہ اس کو کچھ نہیں ملتا ۔ دوسرا یہ کہ اس صورت میں اس کو ملنے والی کمیشن وجود وعدم کے درمیان معلق ہے، گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگر دونوں طرف ممبر بنائے ،تو اتنا کمیشن ملے گا اور اگر اس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گا، اور شرعاً یہ درست نہیں ہے۔ہاں اگر یہ ہوتا کہ ایک طرف ممبر بنانے پر کمیشن کم ملے گا ،اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پر مکمل کمیشن ملے گا تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔
لہذا اس موجودہ طریقہ کار میں جو خرابیاں ہیں ،ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرنا جائز نہیں، اس سے خود بھی بچیں ،اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
جو لوگ اس طریقہ کار کے مطابق اس کا روبار میں شامل ہیں ان کو چاہیئے کہ اس کا روبار کو چھوڑ دیں ،اور جو غلطی ہوئی اس پر توبہ و استغفار کریں، اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)۔
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)۔
وفی البحر الرائق: لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحد منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص اھ (8/ 554)-
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0