کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱:آج کل جو ہمارے ماحول میں جو کرایہ والی گاڑیاں چلتی ہیں ،تو ان کے مختلف اسٹاپوں پر ریزگاری یعنی نقد روپیہ کھولنے کیلئے دکان لگی رہتی ہے ، جو گاڑی والے سے 10 ر روپیہ لیکر 9 یا 8 روپے دیتے ہیں۔
۲:سو روپیہ کا ایک ایک نوٹ والا چیک جو ایک سو بیس روپیہ میں ملتی ہے۔
۳: آج کل جو "بی سی" کا رواج ہے کہ چند افراد ملکر ماہانہ کچھ معین رقم جمع کرتے ہیں، سال بعد یا معین دنوں کے بعدوہ سب جمع شدہ رقم باری باری ایک شخص لیتا ہے ۔ ازروئے شریعت حکم کیا ہے؟
۴: آج کل جو قسطوں پر سامان ملتا ہے ،نقد کی صورت میں سستا اور قسطوں کی صورت میں مہنگا ۔آیا مندرجہ بالا مسائل سود کے ضمن اور حرمت کے حکم میں آتے ہیں یا نہیں؟ جواب تفصیلی مع دلائل عطا فرما کر عنداللہ ماجور ہوں -
١، ۲: نئے اور پرانے کاغذی نوٹ یا ریزگاری اور کاغذی نوٹ دونوں پاکستانی ہونے کے اعتبار سے ایک جنس ہیں ، ان دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں باہم تبادلے کے وقت کمی زیادتی کرنا یا ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار کا معاملہ کرنا سود کے حکم میں ہے، جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ لہذا نو(۹)روپے کی ریزگاری دیکر دس روپےکے کاغذی نوٹ وصول کرنا یا ایک سو بیس روپے دیکر ایک سو نئے روپے والی کاپی لینا اور دینا سودی معاملہ ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
۳: اگر چند افراد مل کر ہر ماہ ایک متعین مقدار کی رقم جمع کر لیا کریں، پھر قرعہ اندازی کے ذریعہ یہ کل رقم ایک شریک کو دیدی جائے ،اور بیسی کی مقررہ مدت تک پر شریک کو اس کی جمع کی ہوئی رقم کے برابر مل جائے ،تو شرعاً اس میں کوئی قباحت اور سود نہیں، بلکہ قرعہ اندازی کے ذریعہ باہمی تعاون اور قرض کا ایک طریقِ کار ہے جو جائز اور درست ہے۔
۴: قسطوں پر خرید و فروخت کے جائز ہونے کیلئے درجِ ذیل چند شرائط کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے :
(۱)مجلسِ عقد ہی میں معاملہ کی نوعیت طے کر لی جائے کہ نقد ہے یا ادھار ؟
(۲) كل قسطیں متعین ہونے کے بعد قسطوار رقم کی مقدار بھی طے کرلی جائے۔
(۳) وقت پر عدمِ ادائیگی کی صورت میں مقررہ قسط میں مزید اضافہ بھی نہ کیا جائے ، ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو معاملہ کیا جائے گا توشرعاً بھی جائز اور درست ہوگا۔ اور اس طرح سامان فروخت کرنے کی صورت میں جو زائد رقم لی جائے گی وہ شرعاً سود بھی نہیں ہوگا۔
ففي الفتاوى الهندية:وإن وجد القدر والجنس حرم الفضل والنساء وإن وجد أحدهما وعدم الآخر حل الفضل وحرم النساء اھ (3/ 117)۔
وفي الدر المختار: باب الربا هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة (إلی قوله) (خال عن عوض) اھ(5/ 168)۔
وفي حاشية ابن عابدين: قال في البحر فضل أحد المتجانسين. نعم هذا يناسب تعريف الكنز بقوله فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال اهـ (5/ 168)۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يقاطعه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 13) ۔
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0