پاکستان میں ایک کمپنی کرنسی پر بزنس کر رہا ہے، جو اپنے کلائنٹ کو ایک لاکھ روپے انوسٹ کرنے کو کہتے ہے، اور کرنسی کا ریٹ اضافہ ہونے پر منافع ملتا ہے اور وہ مالک اور اس کی کلائنٹ میں تقسیم ہوتا ہے، اس میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اکثر اوقات نقصان بھی آتا ہے تو جو اس کمپنی کا پاکستان میں مالک ہے وہ اپنے انوسٹرز کو نقصان اپنے جیب سے ادا کرتے ہیں تاکہ اس کے انوسٹر اور زیادہ ہوں، ہمیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا اور ہماری رقم ہمیں دوبارہ مل جاتی ہے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ بزنس جائز ہے یا نہیں ؟ کیا کرنسی پر بزنس جائز ہے ؟
مختلف ممالک کی کرنسی کا آپس میں تبادلہ کرنا، فروخت کرنا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز اور حلال ہے۔ اور نقصان کی صورت میں کمپنی کا مالک اگر اس نقصان کو تبرعاً خود برداشت کرلے ،تو اس میں بھی حرج نہیں۔ تاہم مالک اور انویسٹر کے درمیان جو معاہدہ طے ہوتا ہے اگر وہ تحریری شکل میں موجود ہو اور اس کی کاپی بھیج دی جائے تو اس معاملہ پر مکر رکبھی غور کیا جا سکتا ہے۔
کما فی الدر المختار: (وتفاحة بتفاحتين وفلس بفلسين) أو أكثر (بأعيانهما) اھ (5/ 175)
و فيه ايضا : (باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز اھ (5/ 179)۔
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0