سن2017 میں میری بہن (نیوزیلینڈ مقیم)نے450000روپیہ سے میری مدد کی تھی ،لیکن میں نے بطورِ قرض منظور کیا تھا۔جو میں نے تمام رقم یونیورسٹی فیس کے طور پر جمع کرائی تھی۔اب میں یہ رقم واپس کرنا چاہتا ہوں پاکستانی روپیہ کی شکل میں۔آیا مجھے اتنی ہی رقم لوٹانی چاہیئے ؟یا اس وقت کے مطابق کرنسی ایکسچینج کے مطابق اب ادا کروں؟ یا آج کے ریٹ کے مطا بق ادا کروں؟ مجھے یہ رقم پاکستان میں روپے کی شکل میں وصول ہوئی western union کے ذریعے۔
واضح ہو کہ فی زماننا راجح قول کے مطابق پیپر کرنسی کی حیثیت ثمنِ عُرفی کی ہے، اور لین دین کرتے وقت اس کی ذاتی حیثیت کا اعتبار کیا جاتا ہے، لہٰذا قرض کا معاملہ کے بعدواپسی اگر اس کرنسی میں کی جائے، جو قرض کے طور پر لی گئی تھی، تو اس میں مقدار کے اعتبار سے برابری کی رعایت رکھنا لازم اور ضروری ہے، چنانچہ جب سائل کو اپنی بہن سے بطورِ قرض ملنے والی رقم مبلغ چار لاکھ پچاس ہزار (۴۵۰۰۰۰) پاکستانی روپیہ کی صورت میں موصول ہوئی تھی، تو اب سائل کے ذمہ اپنی بہن کو چار لاکھ پچاس ہزار روپے پاکستانی کرنسی یا اس مالیت کے بقدر کسی اور کرنسی میں ادائیگی لازم ہوگی۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله فلا عبرة بغلائه ورخصه) فيه أن الكلام في الكساد، وهو ترك التعامل بالفلوس ونحوها (إلی قوله( وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه اھ (5/ 162)۔
وفي الفتاوى الهندية: والقرض هو أن يقرض الدراهم والدنانير أو شيئا مثليا يأخذ مثله في ثاني الحال والدين هو أن يبيع له شيئا إلى أجل معلوم مدة معلومة كذا في التتارخانية اھ (5/ 366)۔
وفي بدائع الصنائع: قولهما أن الواجب في باب القرض رد مثل المقبوض (إلی قوله) أن رد المثل كان واجبا والفائت بالكساد ليس إلا وصف الثمنية وهذا وصف لا تعلق لجواز القرض به اھ (7/ 395) ۔
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0