کیا فرماتے ہیں علماءِ دینِ متین اس مسئلۂ شرعیہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں بعض عقود کافی حد تک معروف ہے ،اور اکثر لوگ اس میں لگے ہوئے ہیں ، مثلاً زید کو کاروبار شروع کرنے کیلئے پاکستانی روپیہ کی ضرورت ہے ،اور بکر کے پاس روپیہ ہے، تو بکر مثلا ً دو لاکھ (200000) کا ڈالر یاریال خریدتا ہے، پھر یہی ڈالر یا ریال بکر کو قسطوں پر یا سال کی مدت پہ 250000 دو لاکھ پچاس ہزار پاکستانی روپیہ میں فروخت کرتا ہے ,بکر ڈالر یا ریال کو پھر سے نقدی پاکستانی روپیہ سے کسی تیسرے شخس کو دو لاکھ یا کچھ کمی بیشی سے فروخت کر کے پیسوں سے اپناکام چلا لیتا ؟ اب پوچھنا یہ ہے کہ مختلف ممالک کی کرنسی نوٹوں میں مقررّہ ریٹ سے تفاضل و نسیئہ کیساتھ جائز ہے یا نہیں ؟ کیونکہ بعض لوگ قاعدے کے مطابق مقررّہ ریٹ سے تفاضل مع النسیئہ کوجائز سمجھتے ہیں، کہتے ہیں کہ ان میں اختلاف جنس بھی ہے اور قدر بھی نہیں ہے جو کہ عند الاحناف علت ربا ہے تو اس میں مقررّہ ریٹ سے تفاضل بھی نسیئہ بھی دونوں جائز ہیں - اسی طرح کے عقود ہمارے ہاں رواج پذیر ہیں ، لہذا خدمتِ اقدس سے مدلّل جواب دینے کا منتظر رہوں گا
(2) :اور اگر اسی طرح عقد سونے اور پاکستانی روپیہ سے ہو تو اس کا حکم کیا ہو گا ؟
(3): اسی طرح اگر ایک طرف سے گاڑی ہو یا کوئی اور چیز مثلاً چینی وغیرہ اور دوسری طرف پاکستانی روپیہ ہو ؟ باقی تفصیل صورتِ اولی جیسی ہے، علاقے میں تینوں صورتیں رائج ہیں اور لوگ کافی حد تک اس میں مبتلا ہیں ۔ مسئلہ حلال اور حرام کا ہے ؟ مدلّل جواب دیکر بندے کی رہنمائی کریں ۔
واضح ہو کہ مختلف ممالک کی کرنسی دو الگ الگ جنس شمارہوتی ہیں، اس لئے ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ دوسرے ملک کی کرنسی سے ہو تو اس میں کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں، بشرطیکہ احد البدلین پر مجلسِ عقد میں قبضہ کیا جائے، اسی طرح پاکستانی روپیہ کا تبادلہ سونا یا گاڑی وغیرہ سے ہو تو اس صورت میں بھی اس کی مارکیٹ ویلیو سے کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں، البتہ بعد میں ادائیگی کی صورت میں عقد کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔
في فقه البيوع : أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربية الباكستانية بالريال السعودي، فقياس قول الإمام محمد رحمه الله تعالى أن تجوز فيه النسیئة أيضا، لأن الفلوس (وهي الأثمان الاصطلاحية) لو بیعت بخلاف جنسها من الأثمان، مثل الدراهم، فيجوز فيها التفاضل والنسيئة جميعا، بشرط أن يُقبض أحد البدلين في المجلس لئلایؤدي إلى الافتراق عن دين بدين الخ - (۲/۷۳۹) ۔
وأيضا: والذي ذكرت أدلته فيما سبق على مذهب الإمام محمد رحمه الله تعالى، فإنه يجوز شراء حلى الذهب والفضة بالنقود الورقيه نسيئة، بشرط أن يكون بسعر يوم العقد، ولا يشترط فيه التقابض بل لا يشترط قبض الخالي الحقيقية وإنما يكفي تعيين الحلي اھ - (۲/ ۷۶۳)-
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0