السلام علیکم!
ہماری کمپنی ایک مخصوص رقم منہا کرتی ہے ہر ماہ ملازم کی تنخواہ سے، پراویڈنٹ فنڈ کے طور پر (ایسی رقم جو فراہم کی جاتی ہے ،ملازم کو اس کی ملازمت کے مکمل ہونے پر)، جتنی رقم ملازم اس ضمن میں ادا کرتا ہے، اتنی ہی رقم ملازم کے کھاتے میں کمپنی جمع کرتی ہے ،اور اس طرح یہ دگنی رقم ہو جاتی ہے ملازم کے لئے۔ ان کو کھاتہ (الف) اور کھاتہ (ب) کہا جاتا ہے۔ ملازم کو اختیار ہے کہ وہ منافع وصول نہیں کرے، کیا یہ منافع حاصل کرنا جائز ہے؟
جبری پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے نام سے جو رقم ملتی ہے، وہ شرعاً سود نہیں، بلکہ اجرت (تنخواہ) ہی کا ایک حصہ ہے، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ۔ البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں جو رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جائے، تو اس میں تشبہ بالر با بھی ہے، اور ذریعہ سود بنا لینے کا خطرہ بھی اس سے اجتناب کیا جائے ۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1